ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بنگلورو کے جی بی اے سے باہر علاقوں کے لیے نیا روڈ گرڈ، سڑکوں کی پیشگی منصوبہ بندی

بنگلورو کے جی بی اے سے باہر علاقوں کے لیے نیا روڈ گرڈ، سڑکوں کی پیشگی منصوبہ بندی

Wed, 30 Sep 2026 11:57:16    S O News

بنگلورو، 30/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی) بنگلورو شہری ضلع کے ان علاقوں میں جو گریٹر بنگلورو اتھارٹی (جی بی اے) کے دائرۂ کار سے باہر ہیں، مستقبل کی شہری توسیع کو منصوبہ بند انداز میں آگے بڑھانے کے لیے حکومت نے نیا روڈ گرڈ وضع کیا ہے۔ اس کے تحت سڑکوں، پینے کے پانی، نکاسیٔ آب اور دیگر بنیادی سہولتوں کی پیشگی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ یہ بات بنگلورو ترقیات کے وزیر کرشنا بائرے گوڑا نے منگل کو وکاس سودھا میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی۔

وزیر نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران بنگلورو میں مناسب پیشگی منصوبہ بندی اور بنیادی سہولتوں کی تیاری کے بغیر تیزی سے شہری پھیلاؤ ہوا، جس کے نتیجے میں ٹریفک، سڑکوں، پینے کے پانی اور نکاسیٔ آب سے متعلق مسائل میں اضافہ ہوا۔ تقریباً دو دہائیاں قبل 110 دیہات اور 7 شہری بلدیاتی اداروں کو بنگلورو کے دائرے میں شامل کیا گیا تھا، تاہم اس وقت ان علاقوں میں بنیادی سہولتوں کا مناسب انتظام نہیں تھا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں مختلف حکومتوں کی جانب سے مستقل پینے کے پانی، نکاسیٔ آب اور بہتر سڑکوں کی فراہمی کے لیے اقدامات کے باوجود بنیادی سہولتوں کی کمی مکمل طور پر دور نہیں ہو سکی ہے۔

کرشنا بائرے گوڑا نے کہا کہ ماضی کی منصوبہ بندی میں موجود خامیوں کے اثرات آج بھی سامنے آ رہے ہیں، اس لیے ان تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے آئندہ ایسی صورتحال پیدا ہونے سے روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے بھی اس سلسلے میں واضح ہدایات دی ہیں کہ ماضی کی منصوبہ بندی کی خامیوں کو دوبارہ نہ دہرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جی بی اے کے باہر کے علاقوں میں شہری کاری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اگرچہ یہ علاقے فی الحال جی بی اے کے دائرے میں شامل نہیں ہیں، لیکن بنگلورو کے توسیعی شہری علاقے کے طور پر ترقی کر رہے ہیں اور مستقبل میں شہر کے وسیع تر شہری دائرے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بنگلورو میں شہری کاری کا موجودہ پھیلاؤ تقریباً 750 مربع کلومیٹر ہے، جو آنے والے برسوں میں 1,400 سے 1,800 مربع کلومیٹر تک پہنچ سکتا ہے۔

وزیر نے کہا کہ بنگلورو کے اطراف شہری کاری کا پھیلاؤ جاری رہنا متوقع ہے، اس لیے ان علاقوں میں ابھی سے بنیادی سہولتوں کی منصوبہ بندی نہ کی گئی تو مستقبل میں یہاں بھی ٹریفک اور نکاسیٔ آب کے وہی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جو اس وقت شہر کے اندر دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ حکومت کا مقصد شہری پھیلاؤ سے پہلے ہی بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک منصوبہ بند فریم ورک تیار کرنا ہے۔

وزیر کے مطابق منصوبہ بند ترقی کے تحت حال ہی میں پورے بنگلورو شہری ضلع کو بنگلورو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے دائرۂ اختیار میں لایا گیا ہے۔ ضلع میں پینے کے پانی کی فراہمی اور مرحلہ وار نکاسیٔ آب کا مناسب نظام قائم کرنے کے لیے ماسٹر پلان تیار کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح بنگلورو میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر مقامی ترقیاتی اداروں کے دائرۂ اختیار میں نئے روڈ گرڈ کی نشاندہی ماسٹر پلان میں کی گئی ہے۔ اس روڈ گرڈ کے ذریعے تعلقہ مراکز، ہوبلی مراکز، اہم ضلعی سڑکوں، ریاستی شاہراہوں، پیری فیرل رنگ روڈ اور سیٹلائٹ ٹاؤن رنگ روڈ کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان سڑکوں کو گرڈ کی طرز پر سی ڈی پی سڑکوں کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا ہے۔

کرشنا بائرے گوڑا نے کہا کہ جی بی اے کے موجودہ علاقوں میں بیشتر مقامات پر پہلے ہی لے آؤٹ اور مکانات تعمیر ہو چکے ہیں، اس لیے وہاں نئی سڑکوں کی نشاندہی محدود فائدہ دے گی۔ اسی وجہ سے نئی توجہ ان علاقوں پر مرکوز کی گئی ہے جہاں اس وقت شہری ترقی ہو رہی ہے۔

وزیر کے مطابق نئی اطلاع میں سیکڑوں سڑکوں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں ضلع پنچایت، محکمہ تعمیرات عامہ اور ریاستی شاہراہوں کی موجودہ سڑکیں بھی شامل ہیں، جنہیں مستقبل میں چوڑا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ بعض موجودہ 10 میٹر چوڑی سڑکوں کو 30 میٹر، 45 میٹر اور بعض مقامات پر 90 میٹر تک چوڑا کرنے کے لیے نوٹیفائی کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مکمل روڈ نیٹ ورک کی تعمیر میں 5 سے 10 سال تک کا وقت لگ سکتا ہے، تاہم نوٹیفائی شدہ سڑکوں کے لیے درکار زمین کو نئے لے آؤٹ یا مکانات کی تعمیر کے دوران خالی رکھنا ہوگا۔ یہ اقدام موجودہ قانونی دفعات کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں سڑکوں کی تعمیر میں رکاوٹ نہ آئے۔

وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی تعمیر یا نئے لے آؤٹ کی تیاری سے قبل نوٹیفکیشن اور سڑکوں کی مجوزہ سمت کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ نوٹیفائی شدہ سڑک کے لیے مختص زمین پر مکان یا لے آؤٹ تعمیر کرنا قانونی خلاف ورزی کے زمرے میں آئے گا۔

نئے نوٹیفکیشن کی مکمل تفصیلات بی ایم آر ڈی اے کی ویب سائٹ پر دستیاب کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عوام کی سہولت کے لیے موجودہ اور مجوزہ سڑکوں کی سمت سے متعلق ویڈیوز بھی تیار کرکے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کے لیے افسران کو ہدایت دی گئی ہے۔

بی ایم آر ڈی اے، ضلع پنچایت اور محکمہ تعمیرات عامہ کے افسران کو نوٹیفائی شدہ سڑکوں کی مشترکہ طور پر نشاندہی کرنے اور گرام پنچایتوں و محکمہ محصولات کے نوٹس بورڈز پر ان کی تفصیلات آویزاں کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، تاکہ مقامی لوگوں کو بروقت معلومات فراہم ہو سکیں۔

وزیر نے کہا کہ ہزاروں کلومیٹر پر مشتمل اس پورے روڈ نیٹ ورک کو بیک وقت تعمیر کرنا ممکن نہیں، اس لیے متعلقہ محکموں کو ترجیح اور مرحلہ وار بنیاد پر سڑکوں کی ترقی کا کام انجام دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اس موقع پر بی ایم آر ڈی اے کے کمشنر راجیندر چولن، بنگلورو شہری ضلع پنچایت کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر یتیش آر، کے آر ڈی سی آئی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر ارون کمار اور دیگر افسران موجود تھے۔


Share: