بنگلورو 30 ستمبر (ایس او نیوز): اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج نے کرناٹک میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کے خلاف اپنی مہم تیز کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ یہ عمل صرف ووٹر فہرستوں کی نظرثانی تک محدود نہیں بلکہ ملک کے شہریوں کو تقسیم کرنے اور ان کے ووٹ کے حق کو متاثر کرنے کی کوشش بن سکتا ہے۔ انہوں نے SIR کو منسوخ کرنے اور انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا.
پرکاش راج کی زیر حمایت Anti-SIR Alliance اور Citizens’ Vote Protection Committee کی جانب سے بدھ کو بنگلورو میں جاری کی گئی 23 صفحات پر مشتمل ایک گراؤنڈ انویسٹی گیشن رپورٹ میں SIR کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ یہ رپورٹ کرناٹک کے 25 اضلاع کے 100 پولنگ بوتھوں میں گھر گھر کی گئی جانچ اور عوامی سماعتوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں ایسے ووٹروں کے معاملات کا ذکر ہے جنہیں ان کے موجودہ پتوں پر رہائش کے باوجود ’’منتقل‘‘، ’’غیر حاضر‘‘ یا حتیٰ کہ ’’مردہ‘‘ قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق کرناٹک کی مسودہ ووٹر فہرست سے 1.08 کروڑ نام ASDDO زمرے کے تحت خارج کیے گئے، جس میں Absent، Shifted، Dead، Duplicate اور Others شامل ہیں۔ ان میں 65.45 لاکھ Shifted، 15.17 لاکھ Absent، 16.39 لاکھ Dead، 7.09 لاکھ Duplicate اور 3.83 لاکھ Others کے زمرے میں رکھے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بنگلورو کے اعداد و شمار کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق شہر کی مسودہ ووٹر فہرست میں ووٹروں کی تعداد 1.11 کروڑ سے گھٹ کر 48.48 لاکھ رہ گئی، جو 43.6 فیصد کمی ہے۔ سرکاری SIR اعداد و شمار میں بنگلورو کے 46.88 لاکھ ووٹروں کو ASDDO زمروں میں نشان زد کیے جانے کا ذکر ہے۔
رپورٹ میں ’’Shifted‘‘ زمرے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ تحقیق کرنے والے رضاکاروں کے مطابق بنگلورو کے ایک علاقے میں 1,300 رہائشیوں میں سے 826 افراد کو منتقل شدہ قرار دیا گیا، حالانکہ رپورٹ کے مطابق وہ اسی علاقے میں رہ رہے تھے اور اپنے Enumeration Forms بھی جمع کراچکے تھے۔
رپورٹ میں ایسے معاملات کا بھی ذکر ہے جہاں زندہ ووٹروں کو ’’Dead‘‘ قرار دیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں متعلقہ افراد کو اپنی زندگی ثابت کرکے دوبارہ ووٹر فہرست میں شامل ہونے کی کوشش کرنا پڑی۔ دھارواڑ، منڈیا اور بنگلورو سمیت مختلف اضلاع میں بزرگوں، مہاجر مزدوروں اور خانہ بدوش برادریوں کو Enumeration Forms نہ ملنے کے معاملات بھی رپورٹ میں درج کیے گئے ہیں۔
SIR کے دوران کرناٹک میں جاری کیے گئے 43.81 لاکھ نوٹس کا بھی رپورٹ میں جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں 23.45 لاکھ نوٹس 2002 کی ووٹر فہرست سے نام کی Mapping نہ ہونے جبکہ 20.35 لاکھ Logical Discrepancies سے متعلق بتائے گئے ہیں۔ تحقیق کرنے والوں کے مطابق بعض نوٹس نام کے ہجے، عمر میں فرق اور دیگر ڈیٹا بیس کی بے ضابطگیوں کی وجہ سے جاری ہوئے۔
پرکاش راج نے اپنی ریاست گیر مہم کے دوران خاص طور پر غریب اور حاشیے پر موجود طبقات کے مسائل اٹھائے ہیں۔ 29 ستمبر کو کوڈاگو کے پالیمادو میں منعقدہ پروگرام میں ان کی ٹیم نے ضلع کے سات دیہات میں 600 سے زائد ووٹروں کو ASDDO زمروں میں نشان زد پائے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ مقامی قبائلی، پسماندہ اور اسٹیٹ ورکرز نے مستقل مکان، زمین اور رہائشی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے SIR کے دوران پیش آنے والی مشکلات بیان کیں۔
پرکاش راج نے الزام لگایا ہے کہ SIR کا اثر مسلم، عیسائی، آدیواسی، دلت، خانہ بدوش اور دیگر کمزور طبقات پر زیادہ پڑ رہا ہے۔ یہ الزامات ان کی مہم اور مذکورہ گراؤنڈ رپورٹ میں پیش کیے گئے ہیں؛ The Week نے بھی واضح کیا ہے کہ یہ تحقیق ریاست کے 50 ہزار سے زیادہ پولنگ بوتھوں میں سے صرف 100 بوتھوں تک محدود تھی، اس لیے اسے پورے ریاستی عمل کا حتمی آڈٹ نہیں کہا جا سکتا۔
پرکاش راج نے اس سے قبل SIR کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرناٹک کو مغربی بنگال جیسی صورتحال سے بچایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم نے ریاست کے مختلف اضلاع سے فیلڈ ڈیٹا اور شکایات جمع کی ہیں اور انہیں ریاستی حکومت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ 30 ستمبر کو دستاویزات جمع کرنے اور یکم اکتوبر کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کے ذریعے نتائج پیش کرنے کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ متاثرہ ووٹروں کے ساتھ 15 اکتوبر کو جنتر منتر پر اجتماع کا منصوبہ بھی بتایا گیا ہے۔
SIR کے حوالے سے پرکاش راج کا معاملہ اس وقت سے بھی زیر بحث ہے جب اگست میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بنگلورو کی ووٹر فہرست میں ان کے نام کو ’’permanently shifted‘‘ قرار دیا گیا۔ انہوں نے الیکشن حکام پر اس وضاحت کو بعد میں تبدیل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ دوسری جانب بی جے پی نے بنگلورو سٹی کے انتخابی حکام کی وضاحت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ راج کا نام SIR کے لیے ڈیٹا منجمد کیے جانے کے وقت فہرست میں موجود تھا اور بعد میں BLO کی تصدیق میں انہیں رجسٹرڈ پتے سے منتقل پایا گیا؛ پارٹی نے موجودہ پتے پر Form 6 کے ذریعے تفصیلات اپ ڈیٹ کرنے کی بات کہی تھی۔ راج نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کیا تھا۔
دوسری جانب SIR کے سرکاری عمل کے تحت دعووں اور اعتراضات کا مرحلہ جاری ہے۔ رپورٹ کے مطابق کرناٹک میں تقریباً 43.8 لاکھ ووٹروں کو دستاویزات کے ذریعے اپنی جگہ پیدائش اور تاریخ پیدائش وغیرہ ثابت کرنے کے لیے نوٹس دیے گئے ہیں، جبکہ لاکھوں معاملات میں سماعت کا عمل آگے بڑھ چکا ہے۔
پرکاش راج نے SIR سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلوں اور اجلاسوں کے ریکارڈ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرنے اور نظرثانی کا عمل واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کی مہم کے مطابق جمع کیے گئے شواہد کو قانونی اور سیاسی سطح پر آگے بڑھایا جائے گا۔
ان کے تازہ مؤقف اور گراؤنڈ رپورٹ کے بعد کرناٹک میں SIR پر سیاسی و سماجی بحث مزید تیز ہوگئی ہے۔ پرکاش راج اور ان کے حامی گروپ SIR کو واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ رپورٹ میں درج اعداد و شمار اور الزامات کی مکمل ریاستی سطح پر آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔