ہوناور ،3 / دسمبر (ایس او نیوز) گیرو سوپّا - بینگلورو نیشنل ہائی وے پر سولیمورکی کراس پر بار بار ہو رہے حادثات کے باوجود نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کے افسران کی طرف سے توجہ نہ دینے اور اس کی روک تھام کے لئے کوئی قدم نہ اٹھانے پر ہوناور پولیس نے این ایچ اے آئی کے ایکزیکٹیو انجینئر، اسسٹنٹ ایکزیکٹیو انجینئر اور ٹھیکیدار کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے ۔
ہوناور پولیس اسٹیشن کے سی پی آئی سدا رامیشا کے مطابق حالیہ مہینے میں اسی کراس پر تین سڑک حادثات ہوئے جس میں ایک شخص کی جان چلی گئی اور کئی لوگ شدید زخمی ہوئے ۔ سال 2021 میں اسی مقام پر 10 سڑک حادثے ہوئے ۔ جس میں ایک کی موت واقع ہوئی اور 13 افراد زخمی ہوئے ۔ 2022 میں 6 حادثے ہوئے اور اس میں بھی ایک شخص کی موت ہوئی اور 60 افراد زخمی ہوئے ۔ اسی طرح سال 2024 میں بھی 6 حادثات ہوئے جس میں 3 لوگوں کی موت واقع ہوئی اور 52 افراد زخمی ہوگئے ۔
سال 2025 میں اسی موڑ پر اب تک 12 سڑک حادثے ہوئے ہیں جس میں 5 لوگوں کی موت واقع ہوئی ہے اور 138 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔
عام لوگوں نے اس بات پر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں کہ بار بار حادثات پیش آنے والے اس مقام پر پولیس کی طرف سے 'بلیک اسپاٹ' قرار دیتے ہوئے اس کی مرمت کا کام فوری طور پر انجام دینے کی درخواست پولیس نے حکومت کو بھیجی تھی ۔ اس کے نتیجے میں اس سڑک کی مرمت کے لئے 9 کروڑ روپے کا فنڈ منظور کیا گیا اور اس با ت چار سال گزرنے باوجود محکمہ جنگلات کی طرف سے درختوں کو کاٹنے کی اجازت نہ دینے کی وجہ سے سڑک کی مرمت کا کام شروع نہیں کیا گیا ہے ۔ تین دن قبل اس مقام پر ہوئے سڑک حادثے میں ایک اسکولی طالب علم کی اس کے جنم دن پر موت واقع ہوئی ہے ۔
عوام کا کہنا ہے کہ الگ الگ محکمہ جات میں آپسی تال میل نہ ہونے اور عوامی منتخب نمائندوں کی طرف سے دلچسپی نہ دکھانے کی وجہ سے ابھی تک سڑک کی درستی کا کام شروع نہیں گیا ہے ۔ ماتحت افسران اپنے اعلیٰ افسران اور محکمہ کے ذمہ داروں کو صرف رپورٹ بھیج کر خاموش بیٹھ جاتے ہیں ۔ محکمہ جنگلات کے غیر انسانی قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ضلع بھر میں سڑک، پانی اور بجلی فراہمی کے انتظامات کام رکا ہوا ہے۔ صرف ترقیاتی کاموں کے لئے ہی نہیں بلکہ سڑکوں پر رکاوٹ اور خطرہ بننے والی درختوں کی شاخیں کاٹنے کی بھی اجازت محکمہ جنگلات کی طرف سے نہیں دی جا رہی ہے ۔
عام لوگ اس بات پر بھی ناراض ہیں کہ 'موت کا موڑ' بنے ہوئے اس مقام پر بیریکیڈس لگانے یا حادثے کے خطرے سے پیشگی آگاہی والے بورڈ نصب جیسے کام بھی نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کی طرف سے نہیں کیا گیا ہے ۔ اس سڑک پر حادثات میں اضافے کا ایک سبب یہ بھی بتایا جا رہا ہے سرسی روڈ پر بھاری موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت پر روک لگی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہوناور - بینگلورو روڈ پر ٹریفک بہت زیاد بڑھ گئی ہے ۔ اس کی وجہ سے گزشتہ سال کے مقابلے میں امسال حادثات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔
ضلع میں ایمرجنسی صورت حال میں بہتر علاج کی سہولت نہ دستیاب نہ رہنے کی وجہ سے متاثرین کو 150 کلو میٹر سے زیادہ لمبی دوری پر واقع اڈپی ضلع کے اسپتالوں میں منتقل کرنا پڑتا ہے اور اسی کوشش کے دوران شدید زخمی ہونے والے افراد دم توڑ دیتے ہیں ۔
عوام کا کہنا ہے کہ ان حادثات کے لئے صرف ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا پر ہی نہیں بلکہ محکمہ جنگلات پربھی پولیس کو مقدمہ درج کرنا چاہیے، کیونکہ درخت کٹ جائیں تو برداشت کیا جا سکتا ہے لیکن قیمتی جانیں چلی جا رہی ہیں اور محکمہ جنگلات کا قانون اسے روکنے میں آڑے آ رہا ہے ۔