سنبھل ، 15/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) ہولی اور نمازِ جمعہ کے پیش نظر گزشتہ دنوں جو کشیدگی پائی جا رہی تھی اور جس طرح اشتعال انگیز بیانات دیے جا رہے تھے، اس سے امن و امان کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے تھے۔ تاہم، جمعہ کے روز ہولی کا تہوار اور نمازِ جمعہ مکمل طور پر پُرامن ماحول میں ادا کیے گئے۔ معمولی اشتعال انگیزی کی چند کوششوں کے باوجود کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ اس پر برادرانِ وطن اور مسلمانوں کے صبر و ضبط اور ذمہ دارانہ رویے کی بھرپور ستائش ہو رہی ہے۔ پولیس ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ دونوں جانب سے امن و امان برقرار رکھنے اور تہوار کو خوش اسلوبی سے منانے کی سنجیدہ کوشش کی گئی، جس کی بدولت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
اتر پردیش جہاں حالات بگڑنے کا سب سے خطرہ تھا وہاں سنبھل سمیت پورے مرادآباد ڈویژن میں ہم آہنگی، سماجی یکجہتی کے ساتھ ہولی منائی گئی اور جمعہ کی نماز بھی پرامن طریقے سے ادا کی گئی۔ذرائع کے مطابق ایک شب قبل ہولیکا دہن کے بعد ایک دوسرے کو ابیر۔گلال لگا کر ہولی کی مبارک باد دینے کا سلسلہ جمعہ کی صبح سے شروع ہوگیاتھا۔ اس دوران سنبھل کے ساتھ ساتھ مراد آباد ، رامپور، امروہہ اور بجنور اضلا ع میں سیکوریٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے تھے۔ یوپی میں حالات قابو میں رہنے کی اہم وجہ یہ بھی رہی کہ تمام حساس اور ملی جلی آبادی والے علاقوںمیں زائد فورس تعینات رہی ۔ ساتھ ہی مساجد کے باہر کوئی شر انگیزی نہ ہو اس لئے فورس وہاں بھی تعینات کی گئی تھی جس کا واضح اثر دیکھنے کو ملا ۔
سنبھل کے قریب واقع مسلم اکثریتی کندرکی سیٹ سے بی جے پی کے نومنتخب ایم ایل اے رام بیر سنگھ کی طرف سے جمعرات کو افطار پارٹی اور نماز کے دوران ملک کی ترقی اور امن کے لئے کی گئی دعا کو مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یوپی کے کئی شہروں میںپہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق نماز جمعہ پرامن طریقے سے ڈھائی بجے ادا کی گئی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔ چونکہ دونوں ہی طرف سے طے ہو گیا تھا کہ ہولی کا جشن ۲؍ بجے تک اور نماز جمعہ ڈھائی بجے کے آس پاس ادا کی جائے گی ، اسی لئے انتظامیہ کو بھی حالات قابو میں رکھنے میں بہت زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑی۔ حالانکہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے کچھ غیر مصدقہ ویڈیوز میں مساجد کے قریب ہنگامہ کرتے ہوئے شر پسندوں کو دیکھا جاسکتا ہے لیکن پولیس نے جلد ہی انہیں کھدیڑ دیا۔ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے حالات کو قابو میں رکھنے کی کوششوں کو شہریوں کا بھرپور ساتھ ملا ۔