ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: ساحلی کرناٹکا میں موسلا دھار بارش سے عام زندگی متاثر؛ اُڈپی کے منی پال اور گنگولی کی سڑکیں تالاب میں تبدیل

بھٹکل: ساحلی کرناٹکا میں موسلا دھار بارش سے عام زندگی متاثر؛ اُڈپی کے منی پال اور گنگولی کی سڑکیں تالاب میں تبدیل

Tue, 20 May 2025 13:26:50    S O News
بھٹکل: ساحلی کرناٹکا میں موسلا دھار بارش سے عام زندگی متاثر؛ اُڈپی کے منی پال اور گنگولی کی سڑکیں تالاب میں تبدیل

بھٹکل، 20 مئی (ایس او نیوز): ساحلی کرناٹکا کے مختلف علاقوں میں پیر کی شب سے جاری شدید بارش نے عام زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ اُڈپی، منی پال، گنگولی اور، کنداپور میں نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے سڑکیں زیر آب آگئیں، جبکہ ٹریفک نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

اُڈپی، منی پال اور گنگولی میں کئی مقامات پر سڑکیں ندی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ بارش کے پانی کی نکاسی کے ناقص انتظام کے باعث ٹریفک جام، گاڑیوں کی خرابی اور آمدورفت میں خلل کی متعدد شکایات موصول ہوئیں۔ منی پال میں سڑکوں پر جگہ جگہ پڑے گڑھوں اور پانی کی موجودگی نے راہگیروں کے ساتھ ساتھ گاڑی سواروں کو بھی شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا۔

مینگلور کے بندر روڈ اور مارکٹ روڈ جیسے نشیبی علاقوں میں پانی بھر جانے سے مقامی لوگوں کا گھروں سے باہر نکلنا دشوار ہو گیا۔ اطلاعات کے مطابق مینگلور اور اُڈپی میں پیر کی شب 9 بجے سے رپورٹ پوسٹ کئے جانے تک یعنی منگل کی دوپہر 1 بجے تک بغیر وقفہ شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

rain-bhatkal-2
bhatkal-rain-3

ادھر بھٹکل میں پیر کے روز اگرچہ دن بھر آسمان بادلوں سے ڈھکا رہا، لیکن صرف ہلکی بوندا باندی ہوئی۔ تاہم منگل کی صبح سے زور دار بارش شروع ہوئی جو دوپہر تک بلا تعطل جاری  ہے۔ مسلسل بارش کے نتیجے میں بھٹکل اولڈ بس اسٹائنڈ اور مین روڈ سمیت کئی نشیبی علاقوں کے ساتھ آزاد نگر کے راستوں پر پانی بھاری مقدار میں جمع ہونے کی اطلاعات سوشیل میڈیا کے ذریعے ملی ہیں۔

 سمجھا جارہا ہے کہ اگر بارش اسی شدت سے کچھ اور گھنٹوں تک جاری رہی تو شمس الدین سرکل  سمیت دیگر  سڑکیں  بھی زیر آب آ سکتی ہیں، جہاں نالوں پر غیر قانونی باکڑے لگا دیے گئے ہیں۔ اس صورتحال میں نیشنل ہائی وے پر بھی پانی بھرنے اور ٹریفک متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ فائل کیے جانے تک کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم انتظامیہ کو ہائی الرٹ  پررہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

اُڈپی-منی پال روڈ پر ایک بار پھر مصنوعی سیلاب:    اُڈپی-منی پال روڈ ایک بار پھر مصنوعی سیلاب کا شکار؛ عوام کو شدید پریشانی  منگل کی صبح سے ہونے والی تیز بارش کے نتیجے میں اُڈپی اور منی پال کو جوڑنے والی مرکزی سڑک ایک بار پھر پانی میں ڈوب گئی، جس سے آمدورفت شدید متاثر ہوئی۔ خاص طور پر آئی این او ایکس (INOX) اور بچس اِن (Bacchus Inn) کے قریب سڑک مکمل طور پر ندی میں تبدیل ہو گئی۔

manipal-rain

یہ شاہراہ منی پال کے تعلیمی اور طبی مراکز کی جانب جانے والے طلبہ، مریضوں اور ملازمین کے لیے نہایت اہم ہے، لیکن نکاسی آب کے ناقص نظام کے باعث معمولی بارش میں بھی یہ سڑک پانی میں ڈوب جاتی ہے۔

دو پہیہ گاڑی سوار اپنی گاڑیاں قابو میں رکھنے میں ناکام دکھائی دیے جبکہ بڑی گاڑیاں بھی پانی سے گزرنے میں مشکلات کا شکار رہیں۔ شدید بارش کے باعث لوگوں کو متبادل راستوں سے سفر کرنا پڑا، جس سے ٹریفک جام اور تاخیر کا سامنا ہوا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ منی پال میں بڑھتی آبادی اور ٹریفک کے باوجود نکاسی آب کے نظام میں کوئی بہتری نہیں لائی گئی، جس کی وجہ سے ہر سال بارشوں میں یہی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں ہیں، جبکہ مقامی عوام نے مستقل حل کا مطالبہ کیا ہے۔

Click here for report in English


Share: