کمٹہ 13 ستمبر (ایس او نیوز) گنیش تہوار اور دیگر مذہبی تقریبات کے دوران بلند ڈیسِبل پر DJ اور تیز آواز والے ساؤنڈ سسٹم کے خلاف اُتر کنڑا ضلع میں جاری مہم کو رکن پارلیمان وشویشور ہیگڈے کاگیری کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر روی راج کڈلے اور ان کی ٹیم کی جانب سے چلائی جارہی مہم کی ستائش کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق ڈاکٹر روی راج کڈلے کی قیادت میں یہ مہم گزشتہ چند برسوں سے جاری ہے، تاہم ماضی میں بعض افراد کی جانب سے ان پر حملہ بھی کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود جیوتی نائک، ماروتی شیٹی ہولنگدے سمیت متعدد افراد اور ضلع کے عوام نے اس مہم کی حمایت کی ہے۔
ضلع انتظامیہ کی جانب سے DJ کے استعمال اور بلند آواز پرعائد کی گئی پابندیوں کو بھی کُمٹہ سمیت ضلع بھر کے عوامی نمائندوں اور عوام کی جانب سے سراہا جارہا ہے۔ کئی افراد کا کہنا ہے کہ مذہبی تہواروں میں بلند آواز والے DJ کے بجائے پُرسکون ماحول کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ عوام کی جانب سے ڈاکٹر کڈلے کے ساتھ ساتھ ڈپٹی کمشنر اور ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپن ایم این کے اقدامات کی بھی ستائش کی جارہی ہے۔
مہم کے حامیوں کا کہنا ہے کہ بلند ڈیسِبل والی موسیقی سے صحت اور شہری زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات کے بارے میں تشویش بڑھ رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہاراشٹرا کے پونے سمیت کئی شہروں کو جس مسئلے کا سامنا ہے، اُتر کنڑا بھی اس سے متاثر رہا ہے، تاہم ڈپٹی کمشنر اور ایس پی دیپن ایم این کے سخت فیصلوں کے باعث اس سال ضلع میں گنیش تہوار کو DJ سے پاک رکھنے کی سمت پیش رفت ہوئی ہے۔
ووٹوں کے لیے ’شور کی سیاست‘ نہ کی جائے: ماروتی شیٹی
دریں اثنا ہولنگدے گرام پنچایت کے سابق رکن ماروتی شیٹی نے کُمٹہ کے رکن اسمبلی دینکر شیٹی کے DJ سے متعلق حالیہ بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی نمائندوں کو ووٹوں کے لیے ’شور کی سیاست‘ سے گریز کرنا چاہیے۔
ایک پریس بیان میں ماروتی شیٹی نے کہا کہ رکن اسمبلی کا بیان پڑھ کر انہیں افسوس ہوا۔ ان کے مطابق کُمٹہ میں تعلیمی اداروں اور طلبہ کے مسائل پر اسی طرح توجہ دی جائے جس طرح DJ کے معاملے پر دی جارہی ہے تو تعلیمی شعبے میں بھی نمایاں بہتری آسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر DJ رقص کے بجائے بچوں کی تعلیم اور محنت کرنے والے لوگوں کے مسائل پر توجہ دی جاتی تو کُمٹہ مزید ترقی کرسکتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلند آواز کے معاملے میں سپریم کورٹ کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے بیان دینا ایک منتخب نمائندے کے منصب کے شایانِ شان نہیں ہے۔
ماروتی شیٹی نے کہا کہ صاحبِ حیثیت افراد کے بچے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں، لیکن غریب خاندانوں کے بہت سے بچے بنیادی سہولتوں سے محروم کمروں میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے حالات میں DJ کے شور کی حمایت کرنے کے بجائے طلبہ کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گنیش بھگوان کی مذہبی عبادت کے لیے DJ ڈانس کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر DJ کو ہی تہوار کا لازمی حصہ بنا دیا گیا تو مستقبل میں گنیش کی روایتی پوجا اور پھل ناریل کی نذر کے بجائے ’DJ سیوا‘ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
ماروتی شیٹی نے کہا کہ ایک تعلیم یافتہ اور بااصول معاشرہ تشکیل دینے کی ذمہ داری رکھنے والے افراد کا محض ووٹوں کی خاطر DJ کلچر کی حمایت کرنا افسوسناک ہے۔