میسور، 13 ستمبر (ایس او نیوز): کرناٹک کے میسور ضلع کے ٹی۔ نرَسی پور میں گنیش اتسو کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس نے گنیش جلوس کے منتظمین کو حساس مقامات پر احتیاط برتنے اور جلوس کا راستہ پہلے سے طے کرنے کی سخت ہدایت دی ہے۔ اسی سلسلے میں ٹی۔ نرَسی پور پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر دھننجئے نے گنیش اتسو منانے والے نوجوانوں کو مسجد کے سامنے پٹاخے نہ چھوڑنے کی واضح وارننگ بھی دی ہے۔
گنیش اتسو سے قبل منعقدہ امن کمیٹی کے اجلاس میں انسپکٹر دھننجئے نے کہا کہ مسجد کے سامنے پٹاخے پھوڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حساس مقام پر پولیس کی جانب سے سکیورٹی تعینات کی جائے گی۔ انہوں نے گنیش کی مورتی نصب کرنے اور جلوس نکالنے سے قبل پولیس کو روٹ فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی، تاکہ جلوس کے دوران ٹریفک، امن و امان اور مختلف مذہبی مقامات کے قریب حفاظتی انتظامات کو مناسب طریقے سے یقینی بنایا جاسکے۔
انسپکٹر نے سخت لہجے میں نوجوانوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس مرتبہ گنیش اتسو کے دوران مسجد کے سامنے پٹاخے پھوڑے گئے تو پولیس سخت کارروائی کرے گی۔
ایک طرف پولیس کی اس وارننگ پر بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے اعتراض سامنے آیا ہے، وہیں امن پسند حلقوں نے پولیس کی جانب سے گنیش جلوس کا روٹ پہلے سے طلب کیے جانے کو امن و امان کے نقطۂ نظر سے اہم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مذہبی تہواروں کے دوران بڑے جلوسوں کے راستے، وقت اور حساس مقامات کے بارے میں پیشگی معلومات رکھنے سے پولیس کو سکیورٹی، ٹریفک کنٹرول اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اسی طرح پولیس افسر کے بیان کو لے کر امن پسند حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد کسی مذہبی تہوار کو روکنا نہیں بلکہ جلوس کے دوران ایسے اقدامات سے گریز کرانا ہے جو حساس مقامات پر کشیدگی یا ناخوشگوار صورتحال کا سبب بن سکتے ہیں۔
خاص طور پر مسجد، مندر یا دیگر مذہبی مقامات کے قریب جلوس کے دوران پٹاخے، بلند آواز یا اشتعال انگیز سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی ممکنہ کشیدگی کو روکنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ اسی تناظر میں انسپکٹر دھننجئے کی جانب سے مسجد کے سامنے پٹاخے نہ پھوڑنے کی ہدایت کو امن و امان برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
پولیس کی ہدایت کے باوجود بعض بی جے پی رہنماؤں نے انسپکٹر کے سخت الفاظ پر اعتراض کیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
معاملے کو لے کر ریاستی وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے پولیس کے فرائض اور قانون و انتظام برقرار رکھنے کے عمل میں مداخلت نہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ پولیس افسران کو حساس حالات میں قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور امن و امان کو متاثر کرنے والی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
پریانک کھرگے نے کہا کہ ٹی۔ نرَسی پور میں گنیش اتسو کے دوران پولیس کی جانب سے پیشگی سکیورٹی انتظامات اور جلوس کے روٹ کی وضاحت کا مقصد تہوار کو پرامن انداز میں منعقد کرانا ہے۔ مسجد کے سامنے پٹاخے نہ پھوڑنے کی ہدایت بھی اسی وسیع تر حفاظتی انتظام کا حصہ ہے، تاکہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے، اشتعال انگیزی اور ممکنہ تصادم کے امکانات کو پہلے ہی روکا جاسکے۔