ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو میں پہلے عالمی کونکنی موسیقی مہا سمیلن کا آغاز؛ بھٹکل کے نوائطی نغموں نے بھی مچائی دھوم

منگلورو میں پہلے عالمی کونکنی موسیقی مہا سمیلن کا آغاز؛ بھٹکل کے نوائطی نغموں نے بھی مچائی دھوم

Tue, 03 Nov 2026 23:35:55    S O News
منگلورو میں پہلے عالمی کونکنی موسیقی مہا سمیلن کا آغاز؛ بھٹکل کے نوائطی نغموں نے بھی مچائی دھوم

منگلورو، 3 نومبر (ایس او نیوز): کونکنی زبان اور اس کی موسیقی کی تہذیبی و ثقافتی وراثت کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے مقصد سے پہلے عالمی کونکنی موسیقی مہا سمیلن کا منگلورو کے ٹاؤن ہال میں منگل کو شاندار آغاز ہوا۔ اس بین الاقوامی سمیلن میں کونکنی سے لسانی و ثقافتی قربت رکھنے والی بھٹکل کی نوائطی زبان کے گیتوں اور نغموں کو بھی خصوصی موقع دیا گیا، جہاں نوائط محفل کی ٹیم نے اپنے منفرد اندازِ پیشکش سے سامعین کی توجہ حاصل کی۔

گوا کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت نے منگل کی صبح 5 بجے اس 13 روزہ بین الاقوامی سمیلن کا افتتاح کیا، جبکہ منگلورو ڈایوسیس کے بشپ ڈاکٹر پیٹر پال سلڈانہ نے افتتاحی تقریب میں دعائیہ کلمات پیش کیے۔

کونکنی ثقافتی تنظیم 'مندّ سوبھن' (Mandd Sobhann) کی جانب سے اپنے قیام کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ یہ سمیلن 3 سے 15 نومبر تک جاری رہے گا۔ اس کا مقصد دنیا بھر میں پھیلی کونکنی بولنے والی برادریوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، کونکنی موسیقی کی مختلف اصناف اور روایات کو فروغ دینا اور نئی نسل کو اپنی زبان و ثقافت سے جوڑنا ہے۔

بھٹکل نوائط محفل کے جنرل سکریٹری اشتیاق رکن الدین نے بتایا کہ سمیـلن میں شریک تقریباً 300 ٹیموں میں سے بھٹکل کی نوائط محفل کی ٹیم کو ابتدائی دس ٹیموں میں ہی اپنی پیشکش کا موقع دیا گیا۔ ہر ٹیم کو گیت پیش کرنے کے لیے ایک گھنٹے کا وقت مختص کیا گیا تھا۔ اس موقع پر سب سے زیادہ توجہ اس وقت حاصل ہوئی جب دوپہر 3 سے 4 بجے تک نوائطی کلام کی پیشکش شروع ہوئی۔ بھٹکل کے شعراء اور گلوکاروں نے بغیر کسی ساز و موسیقی کے، مخصوص لے اور آہنگ کے ساتھ نوائطی کلام پیش کیا، جس نے حاضرین کو حیرت میں ڈال دیا اور خوب داد حاصل کی۔ نوائطی زبان کی اپنی مخصوص ادائیگی، شعری روایت اور منفرد طرزِ گائیکی نے اس پیشکش کو دوسری ٹیموں سے ممتاز کردیا۔

نوائط محفل کے سکریٹری شبیر عجائب نے بتایا کہ اس عالمی پروگرام میں شرکت کے لیے ٹیم نے گزشتہ 45 دنوں سے مسلسل تیاری کی تھی۔ نوفل دامودی، سمیع اللہ برماور اور جیلانی شاہ بندری سمیت مجموعی طور پر 18 گیت کاروں اور فنکاروں نے اسلامی گیتوں کے ساتھ نوائطی روایتی اسلامی لباس میں شرکت کی اور یکے بعد دیگرے مختلف نوائطی کلام پیش کیے۔ ان گیتوں کے ذریعے نوائطی زبان، اس کی شعری روایت اور ثقافتی شناخت کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔

IMG-20261103-WA0046

منتظمین کے مطابق اس سمیلن کی سب سے بڑی خصوصیت مسلسل گائیکی کے ذریعے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کی کوشش ہے۔ 'کونکنی نیرنتری – سنسار سورسوری' (Konko’nni Niro’nto’ri – So’msar So’raso’ri) کے عنوان سے شروع کی گئی اس موسیقی مہم میں 12 دن، 12 گھنٹے اور 12 منٹ تک مسلسل گائیکی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس مہم میں 300 ٹیموں کے ذریعے 6,700 سے زائد گلوکار حصہ لے رہے ہیں، جو 250 سے زیادہ موسیقاروں اور نغمہ نگاروں کے ترتیب دیے ہوئے 4,500 سے زائد کونکنی گیت پیش کریں گے۔ ہر ٹیم کو ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے، جبکہ اس بات کا خاص خیال رکھا جارہا ہے کہ نہ کسی گلوکار کو دوبارہ موقع دیا جائے اور نہ ہی کوئی گیت دہرایا جائے۔

اس عالمی کوشش میں ہندوستان کے مختلف علاقوں کے علاوہ آسٹریلیا، کویت، عمان اور قطر سے بھی کونکنی گلوکاروں کی ٹیمیں شریک ہورہی ہیں، جبکہ گوا سے 53 ٹیمیں اس میں حصہ لے رہی ہیں۔ افتتاح کے موقع پر وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے روایتی کونکنی ساز 'گومات' (Ghumat) بجا کر مسلسل گائیکی کے اس عالمی ریکارڈ کی کوشش کا باقاعدہ آغاز کیا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرمود ساونت نے مندّ سوبھن اور منتظمین کی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ کونکنی زبان کے لہجے مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن کونکنی بولنے والوں کے دل اور زبان ایک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوا میں کونکنی کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے اور حکومت اس کے فروغ کے لیے تعاون کرتی ہے، لیکن منگلورو اور ساحلی کرناٹک میں کونکنی برادری نے اپنی محنت، لگن اور وابستگی کے ذریعے زبان کو زندہ رکھا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے یہ بھی اعلان کیا کہ گوا حکومت ریاست سے باہر رہنے والے کونکنی زبان اور ثقافت کے نمایاں خدمت گاروں کو بھی اپنے سرکاری اعزازات کے لیے زیر غور لائے گی۔ ان کے مطابق گوا اور ساحلی کرناٹک اگرچہ دو الگ ریاستوں میں واقع ہیں، لیکن دونوں کے ساحلی علاقوں کی تہذیب، ثقافت اور طرزِ زندگی میں گہری یکسانیت پائی جاتی ہے۔

گوا کے رکن اسمبلی مائیکل لوبو نے اس موقع پر آنجہانی ایرک اوزاریو کی کونکنی زبان و ثقافت کے فروغ کے لیے خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نئی نسل کے فنکاروں کو آگے بڑھنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔

سمیـلن کی اختتامی تقریب 15 نومبر کو منعقد ہوگی، جس میں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی شرکت متوقع ہے۔ واضح رہے کہ کونکنی برادری بھٹکل اور اس کے اطراف میں آباد نوائط برادری کو بھی کونکنی ثقافتی و لسانی برادری کا حصہ تصور کرتی ہے۔ ایسے میں عالمی کونکنی موسیقی سمیلن میں نوائطی کلام کی شمولیت اور اس کی پذیرائی کو بھٹکل کی منفرد لسانی و ثقافتی شناخت کے اعتراف کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔

فوٹوز: عبدالباسط ائیکری


Share: