میرٹھ 23/فروری (پی ٹی آئی/ایس او نیوز) اتر پردیش کے شہر میرٹھ میں ایک کپڑا تاجر کے تین منزلہ مکان میں مبینہ برقی خرابی کے سبب لگی آگ نے ایک ہی خاندان کے چھ افراد کی جان لے لی، جن میں چار ماہ کی جڑواں بچیاں اور تین دیگر کمسن بچے شامل ہیں۔ یہ دلخراش واقعہ پیر کی شب تقریباً آٹھ بجے لِساڑی گیٹ علاقے کے کِڈوائی نگر میں پیش آیا۔
میرٹھ کے ایس ایس پی اویناش پانڈے نے منگل کو بتایا کہ سات افراد کو شدید جھلسنے کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جن میں سے چھ نے دورانِ علاج دم توڑ دیا۔ مرنے والوں کی شناخت رخسار (25)، ماہبش (12)، حماد (4)، اقدس (4)، نبیہ اور عنایت (چار ماہ) کے طور پر کی گئی ہے۔
مکان اقبال احمد کا بتایا گیا ہے، جن کا خاندان سلائی اور آن لائن ملبوسات کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ گراؤنڈ فلور پر کپڑوں کا بڑا ذخیرہ موجود تھا جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔
حکام کے مطابق آگ ممکنہ طور پر کسی مشین یا برقی آلے میں شارٹ سرکٹ کے باعث بھڑکی۔
واقعے کے وقت خاندان کے چند مرد افراد قریبی صراحی والی مسجد میں تراویح نماز ادا کرنے گئے ہوئے تھے۔ محمد فاروق نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی وہ واپس پہنچے مگر تب تک آگ ان کی بیٹی، بیٹے، بھائی کی جڑواں بچیوں اور ایک اور بچے کی جان لے چکی تھی۔
فائر بریگیڈ کی چار گاڑیاں موقع پر پہنچیں تاہم تنگ گلیوں کے باعث کارروائی میں دشواری پیش آئی۔ فائرفائٹرز نے ملحقہ چھتوں کے ذریعے مکان تک رسائی حاصل کی اور ایک دیوار توڑ کر اندر داخل ہوئے۔ پانچ افراد کو پہلی منزل سے نکالا گیا، جبکہ دوسری منزل پر پھنسے افراد دھوئیں اور شعلوں کی زد میں آگئے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ وی کے سنگھ نے واقعے کی مجسٹریل جانچ کا حکم دیا ہے۔ اہل خانہ نے پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کیا ہے اور تاحال کسی سرکاری امداد کا مطالبہ بھی نہیں کیا ہے۔
مرحومین کی تدفین منگل کو نوچندی کے بلے میاں قبرستان میں کی گئی۔
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی ہے۔