ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو میں نقلی آدھار کارڈ سینٹر کا پردہ فاش - کلیدی ملزم گرفتار

منگلورو میں نقلی آدھار کارڈ سینٹر کا پردہ فاش - کلیدی ملزم گرفتار

Thu, 11 Sep 2025 19:50:52    S O News

منگلورو،  11 / ستمبر (ایس او نیوز) اوروا پولیس کی طرف سے کی گئی کارروائی کے دوران سرکاری دفاتر اور عدالتوں کو دھوکہ دینے کے لیے جعلی آدھار کارڈ اور دیگر جعلی دستاویزات بنانے میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ۔

معلوم ہوا ہے کہ 9  ستمبر کو رات تقریباً 9 بجے، سب انسپکٹر ہریش ایم آر کی درج کردہ شکایت کی بنیاد پر اوروا پولس اسٹیشن حدود کے دادلکاڈ علاقے میں ایک شخص کے آدھار کارڈ کی جعلسازی میں ملوث ہونے کی مصدقہ اطلاع ملی ۔ اس پر تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے پی ایس آئی اور سی سی بی اہلکاروں کے ساتھ رات 9:30 بجے موقع پر پہنچ گئے ۔اس مقام پر افسران نے پیلے رنگ کی لمبی آستین والی کی قمیض اور آسمانی نیلی رنگ کی جینز میں ملبوس ایک شخص کو سڑک کے کنارے کھڑا دیکھا جو کسی کا انتظار کر رہا تھا ۔ 
    
پولیس کی طرف سے اس کی شناخت پوچھنے  پر اس نے اپنا نام عبدالرحمان (46 سال) بتایا جو بپناڈو گاؤں  مُلکی کا  منگلورو کا رہنے والے تھا ۔مزید تفتیش کرنے پر عبدالرحمان نے نشانت نامی ایک شخص کے ساتھ کام کرنے کا اعتراف کیا جو کوڈیال بیل میں آن لائن دکان چلاتا ہے ۔ 
    
اس نے بتایا کہ وہ دونوں مل کر جعلی آدھار کارڈ بنانے کے لیے آدھار کی تفصیلات جیسے نمبر، نام، فون نمبر، پتے اور تصاویر میں ترمیم کرنے کے لیے کمپیوٹر سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہیں ۔ ان جعلی شناختی کارڈز کو مختلف محکموں میں حقیقی ریکارڈ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور ملزمان کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے عدالتوں میں بھی پیش کیا جاتا ہے ۔
    
پولیس نے عبدالرحمان سے دو موبائل فون اپنے قبضے میں لیے ۔ جانچ کرنے پر اس کے ایک فون پر  نشانت کے نام سے محفوظ کردہ رابطے کے ساتھ واٹس ایپ کے ذریعے متعدد آدھار کارڈز بھیجنے کا سراغ مل گیا ۔ 
    
جب افسران نے ’آچاری‘ کے نام سے محفوظ کردہ کارڈ کو کھولا تو اس میں یو آئی ڈی نمبر کے ساتھ ’ویاسرایا آچار‘ کے آدھار کی تفصیلات دکھائی دیں ۔ تاہم، ایم آدھار ایپ کے ذریعے QR کوڈ کو اسکین کرنے سے پتہ چلا کہ تصدیق شدہ آدھار پنجیکل  دکشن  کنڑا کے دینکرا کا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصلی کارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی ۔

تحقیقات سے پتہ چلا کہ عبدالرحمٰن اور نشانت نے نام، نمبر، تصاویر اور دیگر تفصیلات میں رد و بدل کرکے اس طرح کے متعدد جعلی آدھار کارڈ بنائے تھے اور انہیں اصلی کے طور پر سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں پیش  کیا گیا تھا ۔

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اس کی ایک ٹیم اس کیس کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔ اس ضمن میں مزید دو مقدمات درج کیے جائیں گے اور جلد مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔


Share: