پیرس ، 29/ جون (ایس ا ونیوز /ایجنسی)یورپ میں اس وقت گرمی نے تباہی کا عالم پیدا کیا ہوا ہے۔ شدید گرمی کے سبب 1300 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ صرف فرانس میں ہی گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران شدید گرمی کے باعث تقریباً 1000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملک کی صحت عامہ ایجنسی نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔ پیرس کے علاقے میں گھروں کے اندر ہونے والی اموات میں تیزی آئی ہے۔ بدھ کو جب درجہ حرارت سب سے زیادہ تھا، اس وقت 1,200 سے زیادہ اموات ہوئیں۔ اگلے 2 دنوں میں یہ تعداد بڑھ کر روزانہ 1400 سے زیادہ ہو گئی۔ گرمی سے پہلے یہاں ہر دن اوسطاً 900 سے 1000 اموات ہوتی تھیں۔ یعنی روزانہ ہونے والی اموات میں کچھ دنوں کے اندر ہی 500 تک کا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ متوفیوں میں85 فیصد لوگ 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تھے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس گیبریسس نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے۔ یہ عالمی اوسط سے دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 15 کروڑ لوگ شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسکولوں کو بند کرنا پڑا ہے اور پاور گرڈ فیل ہو رہے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بغیر اتنی شدید گرمی اور حبس ممکن نہیں تھی۔
اس دوران جرمنی، پولینڈ اور جمہوریہ چیک میں گرمی کے پرانے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ جرمنی کے شہر نیسمونڈے میں درجہ حرارت 41.7 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ جمہوریہ چیک میں اب تک کا سب سے گرم دن ریکارڈ کیا، جہاں درجہ حرارت 41.9 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔ پولینڈ میں بھی درجہ حرارت 40.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ سطح پر رہا۔
وہیں دوسری طرف جرمنی کے جنگلات میں زبردست آگ بھی بھڑک اٹھی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے زندہ بم اور گولہ بارود ان جنگلات میں دبے ہوئے ہیں۔ آگ کی وجہ سے وہاں دھماکے ہو رہے ہیں، جس سے فائر فائٹرز کو اپنا کام روکنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ دریں اثناء جنوب مغربی جرمنی کے گاؤں ٹریزن سے تقریباً 650 افراد کو بہ حفاظت باہر نکالا گیا ہے۔
گرمی کا سڑکوں اور ٹرینوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ یہاں سڑکوں کی کنکریٹ کی سطحوں میں شگاف پڑ گئے ہیں۔ لیپزگ میں پٹریوں کے پگھلنے کی وجہ سے ٹرام خدمات معطل کرنی پڑی ہیں۔ برلن میں پولیس نے لوگوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا۔ وہیں ہیمبرگ سے پراگ جانے والی ایک ٹرین سے 600 مسافروں کو باہر نکالنا پڑا کیونکہ اے سی بند ہونے سے لوگ بیمار پڑ رہے تھے۔