ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی اسمبلی انتخابات: دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے بادلی حلقہ سے کاغذات نامزدگی جمع کیے

دہلی اسمبلی انتخابات: دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے بادلی حلقہ سے کاغذات نامزدگی جمع کیے

Thu, 16 Jan 2025 12:34:32    S.O. News Service

نئی دہلی  ، 16/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)بادلی اسمبلی حلقہ سے کانگریس امیدوار اور دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے آج آزاد پور میں ایس ڈی ایم ماڈل ٹاؤن دفتر میں پرچۂ نامزدگی داخل کیا۔ نامزدگی کے دوران آزاد پور سے ایس ڈی ایم دفتر تک بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور دیویندر یادو پر پھولوں کی بارش کی۔ دیویندر یادو نے وعدہ کیا کہ وہ 8 فروری کو عوام کے تعاون سے دہلی میں کانگریس کی حکومت بحال کریں گے۔ اس موقع پر کانگریس کارکنان، مقامی عوام اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں، جن میں جھارکھنڈ کی وزیر دیپیکا پانڈے سنگھ، نیشنل میڈیا کوآرڈینیٹر ابھے دوبے، اے آئی سی سی سکریٹری کلجیت ناگرا، راجستھان کے رکن اسمبلی منیش یادو، اور پنجاب کے سابق وزیر شیام سندر اروڑا شامل تھے۔

پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد دیویندر یادو نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 11 سالوں میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی نے دہلی کی جو بربادی اور بدحالی کر رکھی ہے 5 فروری کو بادلی کے لوگ اس کا بدلہ لیں گے۔ دہلی کے لوگ اس دفعہ بے روزگاری سے نجات، مہنگائی سے راحت، گندے پانی سے چھٹکارا، ٹوٹی سڑکیں، کوڑے کے ڈھیروں جیسے اہم مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ووٹ کریں گے۔ علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ کا بھائی، آپ کا بیٹا دہلی کی ترقی کے لیے وہ سب کچھ کرے گا جو 11 سال قبل دہلی والوں کے لیے کانگریس حکومت نے کیا تھا۔

دیویندر یادو نے کیجریوال کی غلط اور بدعنوان حکومت کا کچّا چٹھا کھولتے ہوئے کہا کہ ’’کیجریوال نے 2014 میں عوام سے جو وعدہ کیا تھا ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا۔ دہلی کے لوگ آج بھی پانی کے لیے ترس رہے ہیں اور جو پانی انہیں فراہم کیا جاتا ہے وہ کافی گندہ ہوتا ہے۔ جھگّی میں رہنے والی عورتوں کو کافی دور سے پانی لانا پڑتا ہے۔ ٹوٹی اور خراب سڑکوں کی وجہ سے ہمیشہ خطرات کے اندیشے لگے رہتے ہیں۔ کیجریوال جو صحت اور تعلیم ماڈل کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے، وہ سب ختم اور برباد ہو چکا ہے۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے لوگوں کو سانس لینے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے کیجریوال کے 200 یونٹ مفت بجلی کو سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’200 یونٹ بجلی کی سازش کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ 201 یونٹ ہوتے ہی لوگوں کو دو گُنا بل ادا کرنا پڑتا ہے۔‘‘

کیجریوال حکومت پر حملہ کرتے ہوئے دیویندر یادو نے مزید کہا کہ راشن کی دکانیں بند کر دیں، شراب کے ٹھیکے ہر جگہ کھلنے لگے، دہلی کی خواتین کو 2100 روپے ہر ماہ دینے کے جھوٹے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب میں حکومت بنانے سے قبل کیجریوال نے وہاں کی خواتین سے ہر ماہ 1000 روپے دینے کا جو وعدہ کیا تھا اسے ابھی تک پورا نہیں کیا۔ ایسے حالات میں دہلی والوں کے لیے کانگریس سے بہتر کوئی متبادل نہیں ہے۔ دہلی کے لوگوں نے اس مرتبہ تہیہ کر لیا ہے کہ وہ پھر سے کانگریس کو دہلی میں واپس لائیں گے۔

دیویندر یادو نے کہا کہ ہم اسمبلی انتخاب میں لوگوں کی امید اور یقین کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی نیت سے ان کے پاس پہنچ رہے ہیں۔ کانگریس عوام کی مدد اور حمایت سے دہلی میں اپنی حکومت قائم کرے گی۔ اس کے بعد اپنی تمام گارنٹیوں کو پورا کرے گی۔ ’پیاری دیدی یوجنا‘ کے تحت ہر خاتون کو 2500 روپے ہر ماہ، ’جیون رَکشا یوجنا‘ کے تحت دہلی کے ہر شہری کو 25 لاکھ روپے کا مفت ہیلتھ انشورنس اور ’یووا اڑان یوجنا‘ کے تحت تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو ایپرنٹس شپ کی شکل میں 8500 روپے ہر ماہ دیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ بزرگ شہریوں، معذوروں اور بیواؤں کی بند پڑی پنشن کو جاری کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ بند پڑے راشن کارڈوں کو بنانے کی پہل بھی کی جائے گی، اور تمام لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرایا جائے گا۔

دیویندر یادو نے عوام سے کہا کہ اسمبلی انتخاب کے پیش نظر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے لوگ بھی ووٹ مانگنے آئیں گے، آپ ان سے یہ ضرور پوچھیں کہ ہم آپ کو ووٹ کیوں دیں؟ جب ہم آپ سے کسی کاغذ پر مہر لگوانے گئے تو آپ نے دھکّا کیوں مارا؟ کیا آپ نے راشن کارڈ بنوایا؟ پنشن جاری کی؟ گندگی صاف کروائی؟ مہنگائی سے نجات دلوایا؟ بے روزگاری ختم کی؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو آپ بی جے پی اور عام آدمی پارٹی سے ضرور پوچھیں۔


Share: