نئی دہلی ، 8/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ میں گجرات اور ہریانہ کے ووٹرز کو شامل کیے جانے کا معاملہ اس قدر طول پکڑ گیا کہ ترنمول کانگریس نے الیکشن کمیشن کے خلاف زبردست محاذ کھڑا کر دیا۔ ٹی ایم سی نے کمیشن کو براہ راست مجرم ٹھہراتے ہوئے اسے اپنی غلطی قبول کرنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ پارٹی نے خبردار کیا تھا کہ اگر کمیشن نے فرضی ووٹر کارڈ کے معاملے میں اپنی کوتاہی تسلیم نہیں کی تو مزید دستاویزات سامنے لا کر اسے بے نقاب کیا جائے گا۔ شدید دباؤ کے بعد، بالآخر الیکشن کمیشن کو اپنی غلطی تسلیم کرنی پڑی اور اس نے جمعہ کو ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ تین ماہ کے اندر ڈپلیکیٹ ووٹر آئی ڈی کارڈز کا مسئلہ حل کیا جائے گا اور ٹی ایم سی کی شکایت کو دور کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن نے ترنمول کانگریس کے ذریعہ اٹھائے گئے مسئلہ کے تعلق سےکہا کہ اس نے ڈپلیکیٹ ای پی آئی سی کے نمبروں کے معاملہ کا نوٹس لے لیا ہے تاہم کمیشن نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ ڈپلیکیٹ ای پی آئی سی والے حقیقی ووٹرز ہیں۔کمیشن نے اپنے بیان میں کہاکہ۱۰۰؍ سے زائد انتخابی حلقوں کے نمونے کی انکوائری سے پتہ چلتا ہے کہ ڈپلیکیٹ ای پی آئی سی نمبر والے ووٹرس حقیقی ووٹر ہیں۔ سال ۲۰۰۲ء میںریاستوں کو ای پی آئی سی سیریز کی الاٹمنٹ کے بعد سےچند ای آر اوزنے صحیح سیریز کا استعمال نہیں کیا۔ ریاستوںمیں غلط سیریز کی وجہ سے ڈپلیکیٹ نمبروں کی الاٹمنٹ کے مسئلے کا پتہ نہیں چل سکا کیونکہ ریاستیں آزادانہ طور پر ووٹر لسٹ ڈیٹا بیس کا انتظام کر رہے تھے۔کمیشن نے اب تکنیکی ٹیموں اور متعلقہ سی ای او کے درمیان تفصیلی بات چیت کے بعد اس طویل عرصے سے زیر التواء مسئلے کو اگلے تین ماہ میں حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ڈپلیکیٹ ا ی پی آئی سی والے نمبرزکوایک منفرد قومی ای پی آئی سی نمبرکی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
دوسری طرف الیکشن کمیشن کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹی ایم سی لیڈر ساکیت گوکھلے نے اس کو کمیشن کے ذریعہ ایک ہفتہ میں دوسری بار آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ’’ کمیشن نے بالآخر آج اپنی غلطی تسلیم کرلی کہ متعدد لوگوں کو ڈپلیکیٹ ای پی آئی سی نمبر الاٹ کئے گئے ۔ یہ سب کچھ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی وجہ سے ہوا کیونکہ انہوںنے الیکشن کمیشن کے جھوٹ کو بے نقاب کیا۔الیکشن کمیشن پہلے انکار کرنے کےبعد اس مسئلہ کوتین ماہ میں ’ حل‘ کرنے کا کہہ رہاہےلیکن اس نے ایک بہت ہی ناقابل یقین وضاحت بھی دی کہ’ای پی آئی سی ڈپلیکیٹ کامسئلہ۲۰۰۰ء سے ہی ہے اور یہ غلطی الیکشن کمیشن کے افسران کے ذریعہ غلط حروف تہجی سیریز کے استعمال کی وجہ سے ہوئی۔‘‘
ساکیت گوکھلے نے سوال کیاکہ جب الیکشن کمیشن کی ہینڈ بک میںواضح ہدایات موجود ہیں ، ایسے میں مبینہ طور پر’غلط سیریز‘ کا استعمال کیسے کیا گیا۔ اس سافٹ ویئر کا کیا ہواجس کا استعمال اس طرح کی غلطیوں کو پکڑنے کیلئے کیا جاتا ہے۔اگر کمیشن کہتا ہےکہ یہ۲۰۰۰ء سے ہوا ہے تو۲۵؍ سال تک کچھ کیوں نہیں کیا گیا جب تک کہ سی ایم ممتا بنرجی نے اس کی نشاندہی نہیں کی؟ٹی ایم سی لیڈر نے مطالبہ کیاکہ الیکشن کمیشن اس کی وضاحت دے کہ اس وقت کتنے ڈپلیکیٹ ای پی آئی سی موجود ہیں؟وہ کیا چھپارہا ہے اورکس کو بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ساکیت گوکھلے نےاس معاملے کو ملک کی جمہوریت کے ساتھ گھوٹالہ قرار دیا۔ یاد رہے کہ کانگریس نے بھی الیکشن کمیشن پرہیراپھیری کا الزام عائد کیا تھا اور کہا تھاکہ آئی ڈی کارڈز کے نمبر میں ہیراپھیری کی مدد سے ہی مہاراشٹر میں جیت حاصل کی گئی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال کی لسٹ میں گجرات اورہریانہ کے رائے دہندگان کو جوڑنے کے الزام پر صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈپلیکیٹ نمبر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ فرضی ووٹرز کاررڈ ہیں۔یہ سبھی اصلی ووٹرس ہیں اب ان کا مسئلہ حل کیا جائے گا۔