بھٹکل 7/جون (ایس او نیوز) بھٹکل میں آج بروز سنیچر، 7 جون کو عیدالاضحیٰ انتہائی عقیدت و احترام اور دینی و ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ بارش کے خدشے کے پیش نظر شہر کی تمام جمعہ مساجد میں عید کی نماز ادا کی گئی، اور جیسا کہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا، نماز کے اختتام سے قبل ہی بارش شروع ہو گئی، جس کے باعث نمازیوں کو گھروں تک پہنچنے میں دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ علماء نے اپنے خطبات میں موبائل فون کو موجودہ دور کا سب سے بڑا فتنہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ نوجوانوں کو اخلاقی انحطاط کی طرف لے جا رہا ہے۔
بھٹکل میں مسلمانوں کا سب سے بڑا اجتماع، نوائط کالونی تنظیم ملیہ مسجد میں منعقد ہوا جہاں ہزاروں فرزندان توحید نے عید کی دوگانہ روایتی جوش و جذبہ اور دینی و ملی یکجہتی کے ساتھ ادا کی۔ نمازکے فوری بعد پہلے عربی خطبہ دیا گیا پھر اس کا اُردو ترجمہ پیش کیا گیا۔
اس موقع پرعید کا پیغام پیش کرتے ہوئے تنظیم ملیہ مسجد کے خطیب مولانا انصارمدنی نے کہا کہ عید صرف خوشی کا نہیں، بلکہ محبت اور رشتوں کی تجدید کا دن ہے۔ اگر کسی سے تعلقات منقطع ہیں تو یہی موقع ہے کہ ہم محبت کا ہاتھ بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ رشتوں میں دراڑیں جنت کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، اور یہ ہمارے اعمال اور دعاؤں کی قبولیت میں بھی حائل ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں عاجزی، انکساری اور اخلاص کے ساتھ دوسروں سے جڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ مولانا نے مسلمانوں کواپنے نوجوانوں کے تعلق سے سنجیدگی سے غور کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ ابتدا ہی سے اُن کی بہتر تربیت کی فکر کرنی ضروری ہے۔ انہوں نےکہا کہ نوجوان مغرب کے طریقوں کواپنانے والے نہ بنیں، ان کا اٹھنا بیٹھنا، چال ڈھال، اور لباس مغربی انداز کا نہ ہو۔ مولانا نے کہا؛ ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے اسلام کی بدولت عزت و وقار عطا کیا ہے، اور اگر ہم نے اسے چھوڑ دیا تو دنیا کی ذلت ہمارا مقدر بن جائے گی.

معاشرے میں بڑھتے ہوئے خلع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مولانا انصار نے اس کے اسباب پر غور کرنے کی طرف دھیان دلایا اور کہا کہ نئی نئی شادیاں ہوتی ہیں، سال نہیں گذرتا رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اس مرض کے علاج کی طرف ہماری نگاہ ہونی چاہئے۔ مولانا نےواضح کیا کہ موبائل کو جب ہم اپنا رہنما بنائیں گے اور اس کے استعمال کے سلسلے میں اپنے بچوں کو بے لگام چھوڑیں گے تو نتیجہ یہی نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ رشتوں کو مضبوط کرنے کے جو اسباب ہوسکتے ہیں۔ ہم اُس کو اختیار کریں۔ اور رشتوں کو کمزور کرنے والے اسباب پر سخت روک لگائے۔
مولانا نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس علاقے میں امن و امان کے ساتھ رکھا ہے، اس امان کو اور اس عافیت والے ماحول کو ختم کرنے کے لئے ایک طبقہ پوری طرح یکجٹ ہوکر اس کی تیاری میں لگا ہے۔ ہماری عقل مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کا بہتر نمونہ پیش کریں۔ اُلّڑھ بازی ، شور شرابہ، گالی گلوچ سمیت ایسی تمام چیزوں سے یا وہ چیزیں جو برادران وطن کو برانگیختہ کرنے والی ہوں یا اُن کو اذیت پہنچانی والی ہوں، ان سے ہم احتیاط برتیں۔

خلیفہ جامع مسجد میں عید کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی نے امت مسلمہ کو دوسروں کے حقوق کی ادائیگی کی جانب توجہ دلائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی پر قرض باقی ہے اور وہ قربانی یا حج جیسی عبادات انجام دے رہا ہے تو یہ اعمال کس طرح اللہ کے حضور مقبول ہوسکتے ہیں؟ قرض کی ادائیگی میں تاخیر کو ظلم قرار دیتے ہوئے مولانا نے خبردار کیا کہ اللہ تعالیٰ ظلم کو معاف نہیں کرتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ قربانی اور حج جیسے شعائرِ اسلام، اللہ کی رضا کے لیے انجام دیے جاتے ہیں، نہ کہ دکھاوا یا تفریح کے لیے۔ اگر کوئی دوسروں کے حقوق مار کر دعوتیں دے یا قربانی کرے تو یہ محض دکھاوا ہے، جس کا آخرت میں کوئی صلہ نہیں ہوگا۔ حتیٰ کہ اگر کسی کا ایک پیسہ بھی واجب الادا ہے، تو جب تک وہ ادا نہ کیا جائے، اللہ کے ہاں کامیابی ممکن نہیں۔
مولانا نے اس امرپرسخت تشویش ظاہر کی کہ آج کے کئی نوجوان بھی غیر اسلامی رسم و رواج کی اندھی تقلید میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ کھیل کود میں جیت کے موقع پر نوجوانوں کا ناچ گانا، سڑکوں پر ہنگامہ آرائی، اور خواتین کے ساتھ بے ہودہ انداز میں جشن منانا اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلمانوں کے کسی عمل سے علاقے کے امن و امان میں کوئی خلل پیدا نہ ہونے پائے۔ کھیل تماشے کی یہ وقتی خوشیاں مسائل کا حل نہیں، بلکہ اصل خوشی تقویٰ، انکساری اور شریعت پر عمل میں ہے۔ مولانا نے ایسے غیر شرعی مظاہروں پر سخت نکیر کرتے ہوئے نوجوانوں کو سچی توبہ اور دینی شعور کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کی۔
بھٹکل کی تاریخی جامع مسجد میں عید کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالعلیم خطیب ندوی نے عید کو عالم اسلام اور پوری انسانیت کے لیے خیر و برکت، سکون، عافیت اور امن کا ذریعہ بننے کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ عید کا دن محض خوشی کا نہیں بلکہ دلوں کو صاف کرنے، کدورتیں دور کرنے اور آپسی رشتوں کو جوڑنے کا دن ہے، یہاں تک کہ یہ دن دشمنوں سے بھی گلے ملنے اور معاشرتی فاصلے مٹانے کا پیغام دیتا ہے۔
مولانا نے اپنے خطاب میں معاشرتی ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں معاشرے کو جوڑنے والا بننا چاہیے، نہ کہ توڑنے والا۔ جو لوگ دوسروں کو توڑنے، گرانے اور سازشیں کرنے میں لگے ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ اُنہیں خود گرا دیتا ہے۔ مولانا نے واضح کیا کہ معاشرتی اتحاد اتنا بڑا نیکی کا عمل ہے کہ اس کے لیے بسا اوقات خلاف حقیقت بات کہنے کی بھی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ اس سے دلوں میں محبت پیدا ہو۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ معاشرتی بگاڑ کی اصل جڑ انسان کا بے قابو نفس ہے، اور جب تک ہم اپنے نفس پر قابو نہیں پائیں گے، معاشرتی امن قائم نہیں ہوسکتا۔
عید کے موقع پر بھٹکل کے دیگر علاقوں میں بھی نماز عید پرامن ماحول میں ادا کی گئی۔ مختلف مساجد میں خطباء نے قربانی کے فلسفے، مسلمانوں کی ذمہ داریوں اور عصر حاضر کے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ نماز کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کرعید کی مبارکباد پیش کی، اور حسب روایت قربانی کے جانور ذبح کیے گئے۔ اس موقع پر پورے شہر میں پولس کا مناسب انتظام کیا گیا تھا اور ضلع کے ایس پی مسٹر ایم نارائن خود بھٹکل پہنچ کر حالات پر کڑی نگاہ رکھے ہوئے تھے۔