ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / زمین کے بدلے نوکری معاملہ: ای ڈی کا لالو، رابڑی اور تیج پرتاپ کو سمن، 19 مارچ کو طلب

زمین کے بدلے نوکری معاملہ: ای ڈی کا لالو، رابڑی اور تیج پرتاپ کو سمن، 19 مارچ کو طلب

Tue, 18 Mar 2025 14:15:50    S O News

پٹنہ، 18/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے نوکری کے بدلے زمین معاملے میں پوچھ تاچھ کے لیے سمن جاری کیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، انہیں 19 مارچ کو پیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے۔ اسی معاملے میں ای ڈی نے لالو کی اہلیہ رابڑی دیوی اور بیٹے تیج پرتاپ یادو کو بھی طلب کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے بیانات منی لانڈرنگ سے متعلق قانون (پی ایم ایل اے) کے تحت درج کیے جائیں گے۔ تاہم، یہ بھی قیاس کیا جا رہا ہے کہ لالو پرساد اور ان کے اہل خانہ کے ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کا امکان کم ہے۔

منگل کو لالو کنبہ کے تین لوگوں کو ایجنسی نے طلب کیا ہے۔ الزام ہے کہ نوکری کے بدلے زمین گھوٹالے کے تحت ریلوے کی گروپ ڈی کی نوکریاں دینے کے بدلے زمینیں لکھوا لی گئیں۔ اس کے لیے بھرتی کے ضابطوں کی کھلے طور پر خلاف ورزی ہوئی۔ الزام ہے کہ بھرتی میں شامل لوگوں یا پھر ان کے کنبہ کے لوگوں نے زمینوں کو کم سے کم قیمتوں میں پر فروخت کر ڈالا۔ ان زمینوں کو مارکیٹ ریٹ سے ایک چوتھائی تک کی قیمت پر ہی لالو کے قریبیوں اور ان کے کنبہ کے لوگوں نے اپنے نام کرا لیا۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے ایف آئی آر درج کی تھی اور اسی کی بنیاد پر ای ڈی نے بھی اس معاملے کی جانچ سنبھالی ہے۔

ای ڈی کی چارج شیٹ کے مطابق فرد جرم میں نامزد ایک دیگر ملزم ہردیانند چودھری رابڑی دیوی کی گؤشالہ کا سابق ملازم ہے، جس نے ایک امیدوار سے جائیداد حاصل کی تھی اور بعد میں اسے ہیما یادو کو منتقل کر دیا تھا۔ ایجنسی نے کہا کہ اے۔کے۔ انفوسسٹمس پرائیویٹ لمیٹڈ اور اے۔بی۔ ایکسپورٹس پرائیویٹ لمیٹڈ جیسی کمپنیاں 'شیل' کمپنیاں تھیں، جنہوں نے لالو پرساد کے کنبہ کے اراکین کے لیے جرم کی آمدنی حاصل کی۔ ایجنسی نے کہا کہ ان کمپنیوں کے نام پر 'فرنٹ مین' کے ذریعہ غیر منقولہ املاک حاصل کی گئیں۔

واضح رہے کہ ای ڈی نے دہلی کی ایک عدالت میں لالو پرساد کے کنبہ کے اراکین کے خلاف معاملے میں فرد جرم داخل کیا تھا، جس میں ان کی اہلیہ رابڑی دیوی اور ان کی بیٹیوں میسا بھارتی اور ہیما یادو کے علاوہ کچھ دیگر لوگوں کو بھی ملزم بنایا گیا تھا۔
 


Share: