ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دھرمستھلا میں دفنائی گئی لاشوں کا معاملہ : گیارھویں اور بارہویں مقام پر نہیں ملے انسانی جسم کے باقیات

دھرمستھلا میں دفنائی گئی لاشوں کا معاملہ : گیارھویں اور بارہویں مقام پر نہیں ملے انسانی جسم کے باقیات

Wed, 06 Aug 2025 17:11:06    S O News
دھرمستھلا میں دفنائی گئی لاشوں کا معاملہ : گیارھویں اور بارہویں مقام پر نہیں ملے انسانی جسم کے باقیات

بیلتنگڈی ،6 / اگست (ایس او نیوز) دھرمستھلا میں مبینہ طور پر عصمت دری اور قتل کے بعد ٹھکانے لگائی گئی سیکڑوں لاشوں کا ثبوت ہونے کا دعویٰ کرنے والے گمنام شخص کی طرف سے شکایت اور گواہی کی روشنی میں ایس آئی ٹی نے جو کھدائی کا سلسلہ شروع کیا ہے اس میں گمنام گواہ کی طرف نشان زد کیے گئے گیارھویں اور بارہویں مقام پر انسانی جسم کے باقیات جیسی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی ہے ۔ 

دکشن کنڑا ضلع ایس پی نے بتایا کہ دھرمستھلا پولیس اسٹیشن میں جینت ٹی نامی شخص نے ایک لڑکی کی لاش کو دفنانے کا ثبوت ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے جو شکایت درج کروائی تھی اس معاملے کو ریاست کے ڈی جی - آئی جی پی کی ہدایت پر تفتیش کے لئے ایس آئی ٹی کو سونپا گیا ہے ۔ 

اس کے علاوہ گمنام گواہ کی نشان دہی والے چھ نمبر والے مقام پر بازیافت ہونے والے انسانی جسم کے باقیات کے سلسلے میں ایس آئی ٹی کے تفتیشی افسر جتیندرا دیاما نے دھرمستھلا پولیس اسٹیشن میں جو شکایت درج کروائی تھی اس کی تحقیقات بھی اب اگلی تفتیش کے لئے ایس آئی ٹی کو سونپی گئی ہے ۔ 

اب آگے کیا ہوگا :گمنام شکایت کنندہ گواہ کی جانب سے نشان دہی کیے گئے آخری مقام نمبر 13  پر آج ایس آئی ٹی کھدائی کا کام مکمل کرے گی ۔ اب اس کے بعد تفتیشی مہم کیا رخ اختیار کرے گی اس کے بارے میں ہر کسی کے ذہن میں سوال اٹھ رہا ہے ۔ اب تک کی کھدائی کے دوران جو کچھ بھی باقیات ایس آئی ٹی کے ہاتھ لگی ہیں، انہیں فارنسک جانچ کے لئے بھیج دیا گیا ہے ۔ اس معاملے میں وہاں جو بھی رپورٹ آئے گی وہ بہت ہی اہم ہوگی ، اور اسی کی بنیاد پر تفتیش کی کارروائی آگے بڑھے گی ۔ 

یاد رہے کہ گمنام گواہ نے نیتراوتی ندی کے کنارے جنگل اور اس کے اطراف میں متعدد جگہوں پر لاشیں دفن کرنے یا جلائے جانے کا دعویٰ کیا تھا ۔ تفتیش کے پہلے مرحلے میں 13 مقامات کی نشان دہی کردی گئی تھی اور گیارہ نمبر مقام پر بہت ہی زیادہ لاشیں دفنائے جانے کی وجہ سے یہاں پر زیادہ مقدار میں باقیات ملنے کی توقع جتائی جا رہی تھی ، مگر اس مقام پر کوئی بھی چیز ہاتھ نہیں لگی ہے ۔ اس صورتحال کے پیش نظر ایک سوال یہ ابھر کر سامنے آ رہا ہے کہ کیا ایس آئی ٹی افسران گمنام گواہ کو مزید جگہوں کی نشاندہی کرنے کا موقع دیں گے یا اب تک کی کھدائی کے دوران سامنے آنے والے نتائج کی روشنی میں یہ کارروائی روک لی جائے گی ؟ اور اگر کھدائی کی کارروائی روک لی جاتی ہے تو پھر تفتیش کی سمت اور طریقہ کار کیا ہوگا؟ سمجھا جاتا ہے کہ اگلے دو ایک دن میں ان سوالوں کا جواب مل جائے گا ۔

اس تعلق سے وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور نے بتایا اس معاملہ میں ایس آئی ٹی اپنی سوجھ بوجھ اور طریقہ کار کے مطابق اپنا کام کرے گی ۔ چونکہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اس لئے اسے ایس آئی ٹی کے حوالے کیا گیا ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ ایس آئی ٹی پوری شفافیت کے ساتھ تحقیقاتی کارروائی انجام دے گی ۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد جو رپورٹ پیش ہوگی اسی کی بنیاد پر حکومت اگلی کارروائی کرے گی ۔ 

کھدائی کے چھٹویں دن تین انسانی پنجر ملے ؟ :میڈیکل طالبہ اننیا بھٹ کی ماں سوجاتا بھٹ کے وکیل منجو ناتھ نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ چھٹویں دن کی کھدائی کے دوران تین انسانی ڈھانچوں کے باقیات باز یافت ہوئے ہیں اور اس میں ایک خاتون کا پنجر بھی شامل ہے ۔ 

یڈوکیٹ منجو ناتھ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گمنام گواہ کی طرف سے نشان زد کردہ 11 ویں مقام سے تقریباً سو میٹر کی دوری پر کم از کم تین انسانوں کے پنجر ملے ہیں ۔ اس میں ایک خاتون کا ڈھانچہ ہونے کے ساتھ وہاں سے ایک ساڑی بھی دستیاب ہوئی ہے ۔ 
    
ایڈوکیٹ منجوناتھ کے اس دعوے کے تعلق سے کسی اور ذریعے سے کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے ۔    


Share: