نئی دہلی 11/ڈسمبر (ایس او نیوز): جے این یو کے گرفتار اسکالر عمر خالد کو دہلی کی ایک عدالت نے اپنی بہن کی شادی میں شرکت کی غرض سے 16 دسمبر سے 29 دسمبر تک عبوری ضمانت دے دی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج سمیر بجپئی نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ “درخواست گزار کی حقیقی بہن کی شادی ہے، اس لیے عبوری ضمانت کی درخواست منظور کی جاتی ہے اور درخواست گزار کو 16 تا 29 دسمبر ضمانت پر رہائی دی جاتی ہے۔”
عدالت کے مطابق عمر خالد کو 20 ہزار روپے کے ذاتی مچلکے پیش کرنا ہوں گے۔ ضمانت کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کی گئی ہیں، جن کے تحت عمر خالد سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کریں گے اور صرف اپنے اہل خانہ، رشتے داروں اور قریبی دوستوں سے مل سکیں گے۔
عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ عمر خالد اپنے گھر پر یا ان مقامات پر ہی رہیں گے جہاں شادی سے متعلق تقاریب منعقد ہوں گی۔ عمر کی بہن کی شادی 27 دسمبر کو طے ہے۔
عمر خالد گزشتہ پانچ برس سے زیادہ عرصے سے ہائی سیکیورٹی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ انہیں ستمبر 2020 میں گرفتاری کے بعد یو اے پی اے سمیت سازش، فساد اور غیرقانونی اجتماع سے متعلق سنگین دفعات کے تحت مقدمات کا سامنا ہے۔
گزشتہ سال بھی عمر خالد کو اپنے کزن کی شادی میں شرکت کیلئے عبوری ضمانت ملی تھی۔ عمر کے قریبی دوست بانو جیوتسنا لاہری کے حوالے سے میڈیا میں آئی ایک رپورٹ کے مطابق، “وہ 16 دسمبر کی صبح جیل سے رہا ہوں گے اور انہیں 29 دسمبر کی شام واپس جیل جانا ہوگا
یاد رہے کہ بدھ کو سپریم کورٹ نے عمرخالد اور دیگر پانچ ملزمین کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اور فریقین سے کہا ہے کہ 18 دسمبر تک تمام ثبوت اور دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرائیں۔