نئی دہلی 21/نومبر (ایس او نیوز): دہلی پولیس نے جمعہ کے روز 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ ’بڑی سازش‘ کے کیس میں سابق جے این یو طالب علم لیڈر عمر خالد سمیت دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی سخت مخالفت کی۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ یہ ملزمان صرف ضمانت کے حصول کے لیے آئین کا سہارا لیتے ہیں، حالانکہ ان کے رویّے سے آئین کے احترام کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
آئین کا حوالہ صرف ضمانت کے لیے؟
دی ہندو میں شائع رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی جسٹس ارویند کمار کی سربراہی والی بینچ کے سامنے پیش ہوتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے کہا “یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں آئین سے کوئی حقیقی وابستگی نہیں۔ یہ صرف ضمانت کے لیے آرٹیکل 21 کا حوالہ دیتے ہیں۔”
پولیس کا مؤقف تھا کہ اگر ملزمان عدالتی کارروائی میں تاخیر نہ کریں تو مقدمے کی سماعت دو سال میں مکمل ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، عمر خالد اور دیگر ملزمان نے یہ موقف اپنایا ہوا ہے کہ پولیس ہی مقدمے میں غیر ضروری تاخیر کر رہی ہے اور وہ پانچ سال سے زیرِ سماعت قیدی کے طور پر جیل میں قید ہیں، اس لیے انہیں ضمانت دی جائے۔ پولیس نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان خود تاخیر پیدا کرکے اسے ضمانت کا جواز بنا رہے ہیں۔
کمرۂ عدالت میں مسلسل دوسرے دن ویڈیو شواہد پیش
جمعہ کو پولیس نے مسلسل دوسرے دن کمرۂ عدالت میں ویڈیو چلائے۔ اس بار دکھایا گیا CCTV فوٹیج مبینہ طور پر شمال مشرقی دہلی کے ایک مقام کا تھا، جس میں ہجوم کو سڑک پر چلتے ہوئے دکھایا گیا۔
اس سے قبل 20 نومبر کی سماعت میں پولیس نے شریک ملزم شرجیل امام کی تقاریر کے ویڈیو کلپس دکھائے تھے۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ ان تقاریر میں امام نے لوگوں کو حکومت کے خلاف منظم بغاوت کے لیے بھڑکایا، جس کا مقصد نیپال اور بنگلہ دیش کی طرز پر تشدد کے ذریعے تبدیلیِ حکومت لانا تھا۔
ای ایس جی راجو کے مطابق فسادات اچانک نہیں بلکہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے تھے۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو شواہد میں لوگوں کو لکڑیاں جمع کرتے، انہیں ہتھیار کے طور پر آزماتے اور بڑے پیمانے پر سنگ باری اور کچرا پھینکتے دیکھا جا سکتا ہے۔
جب عدالت نے پوچھا کہ آیا یہ ویڈیوز چارج شیٹ کا حصہ ہیں، تو پولیس نے ہاں میں جواب دیا۔
تشدد کے ذریعے حکومت کی تبدیلی اور
نیپال اور بنگلہ دیش جیسے واقعات کی مثالوں سے تحریک دینا تھا۔
راجو نے دعویٰ کیا کہ فسادات پہلے سے منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ تھے اور ویڈیوز سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ لکڑیاں جمع کرکے انہیں بطور ہتھیار آزما رہے تھے, بھاری پتھراؤ کیا جا رہا تھا, کچرا پھینک کر راستے بند کیے جا رہے تھے.
جب عدالت نے پوچھا کہ کیا یہ ویڈیوز چارج شیٹ کا حصہ ہیں، تو راجو نے جواب دیا: ہاں۔
الزامات میں شامل ہیں: تشدد کی سازش، چکّہ جام کے ذریعے دہلی کی سپلائی روکنے کی کوشش، معاشی ابتری پیدا کرنے کا منصوبہ اور ’آسام کو بھارت سے کاٹنے‘ کی مبینہ سازش
CCTV کی تباہی — ’محافظ گواہوں‘ کے بیانات کا حوالہ
پولیس نے عدالت کو محفوظ گواہوں کے بیانات بھی پڑھ کر سنائے۔ ایک گواہ ’’ریڈیم‘‘ کے مطابق 23 فروری 2020 کو تشدد کی شدت سازشی عناصر کی توقع کے مطابق نہیں تھی، اور وہ اس بات پر پریشان تھے کہ CCTV کیمرے ان کی سرگرمیاں ریکارڈ کر رہے ہیں۔ گواہ کے مطابق ایک میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ: کیمروں کو تباہ یا غیر فعال کر دیا جائے۔
راجو نے بتایا کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ کیمروں کی تباہی کے بعد:بڑے پیمانے پر تشدد بھڑک اٹھا، ایک پولیس کانسٹیبل ہلاک ہوا، کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور ایک انٹیلیجنس بیورو افسر بھی مارا گیا۔ راجو نے مزید کہا کہ ملزم شاداب احمد — جس پر کانسٹیبل کے قتل کا الزام ہے — نے مذکورہ میٹنگ میں شرکت کی تھی۔
پولیس کے مطابق ملزمان طاہر حسین، شفا الرحمٰن، میراں حیدر، عشرت جہاں اور خالد سیفی نے فسادات کے لیے مالی معاونت فراہم کی، جسے پولیس نے ’دہشت گردی کی فنڈنگ‘ قرار دیا۔
مزید سماعت پیر کو:
سپریم کورٹ نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت میں ملزمان کے وکلاء پولیس کے دلائل کا جواب (rejoinder) پیش کریں گے۔