نئی دہلی ، 25/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی ہائی کورٹ نے آج بی جے پی لیڈران کی وہ عرضی خارج کر دی جس میں دہلی اسمبلی میں سی اے جی کی 14 رپورٹ پیش کرنے کے لیے خصوصی اجلاس طلب کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’اگرچہ رپورٹ پیش کرنے میں تاخیر ہوئی ہے، لیکن اسمبلی کی کارروائی میں مداخلت کرنا ممکن نہیں۔‘‘ یہ فیصلہ بی جے پی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ وہ اسمبلی انتخاب سے پہلے سی اے جی رپورٹ پر بحث کے ذریعے کیجریوال حکومت کو گھیرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
یہ فیصلہ جسٹس سچن دتہ کی سنگل بنچ نے سنایا ہے۔ بنچ نے صاف لفظوں میں کسی طرح کی ہدایت جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ حالانکہ عدالت نے یہ ضرور کہا کہ اسمبلی میں سی اے جی رپورٹ پیش کرنے کے لیے دہلی کی عآپ حکومت نے بہت زیادہ دیر لگا دی ہے۔ آئین کے تحت سی اے جی رپورٹ پیش کرنا لازمی ہے، یہی وجہ ہے کہ بی جے پی لیڈران نے اسمبلی انتخاب سے عین قبل اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے عرضی داخل کی تھی اور کہا تھا کہ سی اے جی رپورٹ پر بحث ہونی چاہیے۔
یہ عرضی دہلی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر وجیندر گپتا سمیت کچھ دیگر بی جے پی اراکین اسمبلی (موہن سنگھ بشٹ، اوم پرکاش ورما، اجئے کمار مہاور، ابھے ورما، انل کمار باجپئی، جتیندر مہاجن) نے داخل کی تھی۔ عرضی گزشتہ سال کے آخر میں ہی دی گئی تھی جس پر 24 جنوری کو سماعت ہوئی۔ اسپیکر اور حکومت کے سینئر وکلاء نے عدالت کے ذریعہ اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے متعلق کوئی بھی ہدایت جاری کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ جب جلد ہی اسمبلی انتخاب ہونا ہے تو پھر رپورٹ کو اس سطح پر پیش کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔