نئی دہلی، 19/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) منگل، 18 مارچ کو دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا کہ راجدھانی میں گٹر کی دستی صفائی حکومت کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ نیو فرینڈز کالونی میں صفائی کے دوران پنتھ لال کی موت ہو گئی، جبکہ رام کشن اور شیو داس کی حالت تشویشناک ہے۔ تاہم، دہلی جل بورڈ اپنی ذمہ داری سے بچنے کے لیے یہ مؤقف اختیار کر رہا ہے کہ متاثرہ افراد بغیر اجازت مین ہول میں اترے تھے اور وہ بورڈ کے مستقل یا کنٹریکٹ ملازمین نہیں تھے۔ دیویندر یادو نے اس بیان کو بے حسی اور انسانیت کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا خود مداخلت کریں اور پنتھ لال کے اہل خانہ سمیت زخمی ملازمین کو معاوضہ دیا جائے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ یہ تشویشناک امر ہے کہ مشینوں کے ذریعہ گٹر کی صفائی کے نام پر کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود راجدھانی میں گٹر کی دستی صفائی ہوتی ہے، جس میں بے قصور لوگوں کی موت ہو جاتی ہے۔ جب کہ گٹروں کی مشینی صفائی کے لیے پیشہ ورانہ تربیت یافتہ لوگوں کے ذریعہ کی جانی چاہیے جو کہ میونسپلٹی اور متعلقہ محکمہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی جل بورڈ کے معاہدہ شدہ ٹھیکیدار کے ذریعہ گٹر کی صفائی کا کام کیا جا رہا تھا، جس کی پوری ذمہ داری دہلی جل بورڈ کی ہے۔ یہ انتہائی سنگین بات ہے کی بغیر حفاظتی سامان کے یہ لوگ گٹر کی صفائی کرنے اترے۔ جب کام کا ٹھیکہ دہلی جل بورڈ نے دیا تو یہ ذمہ داری بھی دہلی جل بورڈ کی ہے کہ کیسے بغیر حفاظتی سامان کے لوگ گٹر میں صفائی کے لیے اترے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ بی جے پی کارپوریشن میں 15 سال اقتدار میں رہی، 11 سالوں سے مرکز میں ہے اور حال ہی میں دہلی میں بی جے پی کی نئی حکومت بنی ہے۔ بی جے پی ہمیشہ غریبوں، دلتوں اور محروموں کے مفادات کے تحفظ کے معاملے میں کبھی حساس نہیں رہی ہے۔ یہ عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ صفائی کے کام سے زیادہ تر غریب، دلت اور پسماندہ طبقے کے لوگ ہی منسلک رہتے ہیں اور بی جے پی ہمیشہ غریب مخالف پالیسی پر کام کرتی ہے۔ راجدھانی میں گزشتہ 15 سالوں میں گٹر کی دستی صفائی کرنے والے 94 لوگوں کی موت ہو چکی ہے جو کہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ صفائی کارکن ممانعت ایکٹ 2013 کو نافذ کرنے اور ان کی بازآبادکاری کرنے میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کی دہلی حکومت پوری طرح ناکام رہی ہے۔