ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / میسورپیلیس کے قریب سلنڈر دھماکہ: غبارہ فروش کی موت؛ چھ زخمی جس میں دو کی حالت نازک

میسورپیلیس کے قریب سلنڈر دھماکہ: غبارہ فروش کی موت؛ چھ زخمی جس میں دو کی حالت نازک

Sat, 27 Dec 2025 00:42:03    S O News
میسورپیلیس کے قریب سلنڈر دھماکہ: غبارہ فروش کی موت؛ چھ زخمی جس میں دو کی حالت نازک

میسور26/ڈسمبر (ایس او نیوز): میسورپیلیس کے جے مارٹینڈا گیٹ کے قریب فٹ پاتھ پر غبارے بھرنے کے دوران پیش آئے گیس سلنڈر دھماکے کے معاملے میں میسور سٹی پولیس نے اپنی تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ جمعرات کی رات پیش آنے والے اس حادثے میں غبارہ فروش سلیم (40) ہلاک ہو گیا، جبکہ چھ افراد زخمی ہوئے۔

میسور ضلع کے انچارج وزیر ایچ سی مہادیوپا نے واضح کیا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والے سلینڈر میں ہیلیم گیس نہیں تھی، بلکہ سلیم نے غبارے بھرنے کے لیے سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ کے ذریعے خود گیس تیار کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سلینڈر میں ہیلیم گیس ہوتی تو حادثہ کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا تھا۔

پولیس سلیم کے پس منظر (Antecedents) کی جانچ کر رہی ہے، جو مبینہ طور پر اتر پردیش کا رہنے والا تھا۔ اسی دوران اطلاعات ہیں کہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی ایک ٹیم جائے وقوعہ کا دورہ کرے گی اور سٹی پولیس سے واقعے سے متعلق تفصیلات حاصل کرے گی۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق سلیم کے ساتھ موجود دو افراد سے بھی پولیس اور این آئی اے کی جانب سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

حادثے میں زخمی ہونے والے چھ افراد میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ چار زخمیوں کا علاج کے آر اسپتال میں جاری ہے، جبکہ ایک زخمی کو میسور کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ تشویشناک حالت میں بنگلورو کی سیاح لکشمی (45) اور ننجن گوڑ کی منجولا (29) شامل ہیں۔

جمعہ کے روز وزیر ایچ سی مہادیوپا نے ڈپٹی کمشنر جی لکشمی کانتھ ریڈی اور پولیس کمشنر سیما لٹکر کے ہمراہ کے آر اسپتال کا دورہ کر کے زخمیوں کی عیادت کی اور اعلان کیا کہ حکومت زخمیوں کے علاج کا مکمل خرچ برداشت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک غیر متوقع اور افسوسناک حادثہ ہے۔ سلیم ایک عام کاروباری تھا، جو خود گیس تیار کر کے غبارے فروخت کرتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے ایک ہوٹل میں اس کے ساتھ ٹھہرنے والے افراد اس کے اہل خانہ ہیں۔

وزیر نے این آئی اے کی جانب سے معلومات اکٹھی کیے جانے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ میسور ایک اہم سیاحتی مقام ہے، اس لیے ایسے واقعات میں این آئی اے کا معلومات حاصل کرنا ایک معمول کا عمل ہے، اور سٹی پولیس مکمل تعاون کر رہی ہے۔

پولیس کے مطابق دیوراجا پولیس اسٹیشن میں زخمی کوٹریش کی شکایت پر متوفی غبارہ فروش سلیم کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سلیم تقریباً 15 دن قبل میسور آیا تھا اور لشکر محلہ کے ایک نجی ہوٹل میں روزانہ 100 روپے کرایہ پر مقیم تھا۔ اس کی بیوی اور تین بچوں کو اب ایک دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ واقعہ جمعرات کی رات تقریباً 8:30 بجے اُس وقت پیش آیا، جب وہ جے مارٹینڈا گیٹ کے قریب غباروں میں گیس بھر کر فروخت کر رہا تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عموماً لوگ میسور شہر کا سامنے سے منظر دیکھنے اور بالخصوص قمقموں سے جگمگاتے میسور پیلیس کے پس منظر میں تصاویر کھینچنے کے لیے بڑی تعداد میں آتے ہیں۔


Share: