نئی دہلی، 26/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)لوک سبھا میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو کے خلاف خصوصی استحقاق کی خلاف ورزی کا نوٹس پیش کیا گیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منکم ٹیگور نے الزام عائد کیا ہے کہ رجیجو نے ایوان میں غلط بیانی کی اور اراکین کو گمراہ کیا۔ 25 مارچ کو لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو دیے گئے نوٹس میں ٹیگور نے دعویٰ کیا کہ رجیجو نے گزشتہ پیر کو کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے مبینہ بیان سے متعلق ایوان کو گمراہ کیا، جس پر کارروائی ہونی چاہیے۔
لوک سبھا میں کانگریس کے وہپ منکم ٹیگور کا کہنا ہے کہ خود شیوکمار نے کرن رجیجو کے بیان کو غلط اور ہتک آمیز کہہ کر خارج کر دیا ہے۔ انھوں نے گزارش کی کہ کرن رجیجو کے خلاف خصوصی استحقاق کی خلاف ورزی کی کارروائی شروع کی جائے۔ قابل ذکر ہے کہ راجیہ سبھا میں کانگریس کے چیف وہپ جئے رام رمیش نے بھی پیر کے روز ایوان بالا کے لیڈر جے پی نڈا اور پارلیمانی امور کے وزیر رجیجو کے خلاف خصوصی استحقاق کی خلاف ورزی کا نوٹس دیا تھا۔ انھوں نے بھی بی جے پی لیڈران پر کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کے مبینہ بیان کو لے کر ایوان کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
دراصل پارلیمانی امور کے وزیر رجیجو نے شیوکمار کا نام لیے بغیر لوک سبھا میں کہا تھا کہ ’’آئینی عہدہ پر فائز ایک شخص کہتا ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن دیا جائے گا اور آئین بدلا جائے گا... ہندوستانی آئین میں مذہب کے نام پر کوئی ریزرویشن نہیں ہو سکتا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’کانگریس پارٹی سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنا موقف واضح کرے۔ اگر آپ باباصاحب امبیڈکر کے آئین میں بھروسہ کرتے ہیں تو جس نے بیان دیا ہے، اسے فوراً برخاست کیجیے۔‘‘