نئی دہلی، 9/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی کو اقتصادی خودسپردگی پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے تحت حکومت نے امریکی دباؤ میں آکر ٹیرف میں نرمی پر آمادگی ظاہر کی۔ سنیچر کو پارٹی نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ "آخر کار ہندوستان کو بے نقاب کیا جا رہا ہے۔" کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ140 کروڑ ہندوستانیوں کو اپنی ہی حکومت کی تجارتی پالیسی امریکی صدر کے ذریعے معلوم ہو رہی ہے۔ نریندر مودی ملک میں شیروں جیسی گرج دکھاتے ہیں، مگر بیرون ملک جا کر کمزور ہو جاتے ہیں۔ ہم ایسے کمزور رویے کو ہندوستان کی ساکھ پر دھبہ نہیں لگانے دیں گے۔ ایک طرف ٹرمپ مودی کو گلے لگا رہے ہیں، تو دوسری طرف ملک کی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کے لیے ملک کی معیشت سے زیادہ ان کی ذاتی شبیہ اہم ہے۔ جہاں کئی ممالک امریکہ کی پالیسیوں کا ڈٹ کر جواب دے رہے ہیں، وہیں ہماری حکومت کی خاموشی حیران کن ہے۔ آخر وزیراعظم اور وزیر خارجہ کس خوف میں مبتلا ہیں؟
پون کھیڑا نے کہاکہ وزیر تجارت پیوش گوئل تجارتی بات چیت کے لیے امریکہ میں موجود ہیں لیکن حکومت کی طرف سے ٹیرف میں کمی کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ۱۴۰؍کروڑ ہندوستانی امریکی صدر ٹرمپ کے ذریعے اپنی ہی حکومت کی تجارتی پالیسی کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ کھیڑا نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ہندوستان کو دھمکی دی ہے اور اسے اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کیا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ہندوستان کو باہمی ٹیرف کے نام پر دھمکیاں دی جا رہی تھیں لیکن وزیر اعظم مسکراتے ہوئے خاموش رہے تھے۔ وزیراعظم کے وہاں سے واپس آنے کے چند گھنٹے بعد امریکہ نے جلاوطن ہندوستانیوں کو بیڑیوں میں ڈال کر واپس بھیج دیا۔
۱۹۷۱ءکی بنگلہ دیش جنگ کی مثال دیتے ہوئے کھیڑا نے کہاکہ اس وقت امریکہ نے ہمیں ڈرانے کیلئے ساتواں بحری بیڑا بھیجا تھا لیکن ہندوستان نہیں جھکا۔ لیکن آج ہندوستان کے وزیر اعظم کی شبیہ کیوں کمزور دکھائی دے رہی ہے؟ انہوں نے کہاکہ اگرکنیڈااور میکسیکو جیسے ممالک باہمی ٹیرف کے معاملے پر ٹرمپ کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہو سکتے ہیں تو ہندوستان ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو امریکہ کے باہمی ٹیرف کے فیصلے سے سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔ ماہرین کے اندازوں کے مطابق اس سے ملک کو سالانہ۶۰؍ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔ اس سے کسانوں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا، ہندوستانی زراعت کو تین سطحوں پر چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہاکہ مودی حکومت اپنے چند سرمایہ دار دوستوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے اور ملک کے چھوٹے تاجروں کو نظر انداز کر رہی ہے۔
کھیڑا نے کہا کہ اگر مودی حکومت امریکہ کو منہ توڑ جواب دیتی ہے اور ہندوستان کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے تو کانگریس ایک ذمہ دار اپوزیشن کے طور پر حکومت کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیاکہ وزیر اعظم واضح کریں کہ ہندوستان کے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں ؟
کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے اس دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا’’وَزیر تجارت پیوش گوئل اس وقت امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات کیلئے واشنگٹن ڈی سی میں موجود ہیں۔ اسی دوران صدر ٹرمپ کا یہ بیان آتا ہے۔ آخر ہندوستان نے امریکہ کے ساتھ کیا شرائط تسلیم کی ہیں ؟ کیا اس میں ہندوستانی کسانوں اور مقامی صنعتوں کے مفادات کا خیال رکھا گیا ہے؟‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ۱۰؍ مارچ سے پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا دوسرا مرحلہ شروع ہو رہا ہے، ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو چاہئے کہ وہ ایوان کو اعتماد میں لیں اور تفصیلات بتائیں کہ امریکہ کے ساتھ کن شرائط پر اتفاق کیا گیا ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ امریکی صدر کا بیان دراصل ہندوستان کی پالیسیوں پر سوالیہ نشان ہے۔ پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ کے مطابق وہ ہندوستان کو بے نقاب کر رہے ہیں جو کہ ہمارے ملک کے لیے شرمناک بات ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ان سے ڈر کر ٹیرف کم کر دیا۔ اگر یہ سچ ہے تو یہ ہندوستان کی خودمختاری پر سوالیہ نشان ہے۔ وزیر اعظم کو وضاحت دینی چاہیے کہ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے کیا سمجھوتے کیے گئے اور ہندوستان کے وقار کو کیوں داؤ پر لگایا گیا؟‘‘کانگریس نے مزید مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر حکومت کو فوری طور پر آل پارٹی میٹنگ بلانی چاہئے۔