نئی دہلی ، 14/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)پیر کے روز ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید کمی آئی اور یہ نئی نچلی سطح پر پہنچ گیا۔ روپے کی قیمت میں یہ ریکارڈ گراوٹ کئی دنوں سے جاری ہے، جس پر کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی 2014ء سے پہلے کے ویڈیوز شیئر کیے جا رہے ہیں جن میں مودی نے روپے کی قدر میں کمی پر سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
پیر کو لگاتار دوسرے کاروباری سیشن میں روپے کی قدر میں گراوٹ کے بعد غیر مستحکم عالمی اشاروں کے درمیان روپے کی قیمت میں مزید ۲۷؍ پیسوں کی کمی آگئی اور ایک ڈالر ۸۶ء۶۳؍ روپے پر پہنچ گیا۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق آر بی آئی کی تازہ پالیسیوں کے نتیجے میں ڈالر ۹۰؍ روپے تک پہنچ سکتاہے۔
ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں کمی پر کانگریس نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی کو ہدف تنقید بنایا اوران کا ۲۰۱۴ء سے قبل کا ویڈیو بھی شیئر کیا ۔ اس ویڈیو میںمودی کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ’’کیا وجہ ہے کہ ہندوستان کا روپیہ کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ ملک آپ سے جواب مانگ رہا ہے۔‘‘ اس کے بعد ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ’’ایک بار پھر روپے کی قدر میں کمی آئی ہے اور وہ ڈالر کے مقابلے اب تک کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔‘‘روپے کی موجودہ قدر کا حوالہ دیتے ہوئے ویڈیو میں کہاگیاہ ے کہ ’’ لیکن مودی کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘ اس پوسٹ میں کیپشن لگا کر اسے مودی کا نیا ریکارڈ قرار دیاگیاہے۔ جے رام رمیش نے مودی کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’جب مودی نے وزارت عظمیٰ سنبھالی اس وقت ان کی عمر ۶۴؍ سال تھی اور روپیہ ڈالر کے مقابلے ۵۸ء۵۸؍ پر تھا۔ انہوں نے اس وقت روپے کو مضبوط کرنے کیلئے فصیح و بلیغ تقریریں کی تھیں اور اس کی قدر میں آنے والی کمی کو اپنے پیش رو وزیراعظم کی عمر سے جوڑ دیاتھا۔ اب جبکہ خود مودی ۷۵؍ سال کے ہورہے ہیں، روپیہ ان سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور ۸۶؍ پر پہنچ گیاہے۔‘‘