ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اتر پردیش میں 69 ہزار اساتذہ کی بھرتی گھوٹالہ: کانگریس نے اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

اتر پردیش میں 69 ہزار اساتذہ کی بھرتی گھوٹالہ: کانگریس نے اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ

Wed, 26 Feb 2025 13:39:17    S O News

نئی دہلی ، 26/نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس نے اتر پردیش میں اساتذہ کی بھرتی کے دوران ریزرویشن ضابطوں کی مبینہ خلاف ورزی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس گھوٹالے کی عدالتی جانچ کرانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے پر وضاحت دے۔

نئی دہلی واقع کانگریس دفتر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اتر پردیش کانگریس درج فہرست ذات محکمہ کے سربراہ اور بارابنکی سے رکن پارلیمنٹ تنوج پونیا نے کہا کہ 69 ہزار اساتذہ کی بھرتی میں 18500 ریزرو سیٹوں پر ایس سی-ایس ٹی اور او بی سی طبقہ کے لوگوں کو ملازمت ملنی تھی، لیکن اس میں سے صرف 2637 سیٹوں پر ہی ریزرویشن نافذ کیا گیا۔ بقیہ 15863 سیٹیں غیر ریزرو طبقہ کے لوگوں کو دے دی گئیں۔ یہ فیصلہ آئین میں دیے گئے ریزرویشن نظام کے خلاف ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ تنوج پونیا نے کہا کہ بی جے پی نے 2024 کے لوک سبھا انتخاب میں بار بار آئین کو بدلنے کی منشا ظاہر کی تو دلت سماج اور پسماندہ طبقہ نے دکھا دیا کہ بی جے پی کی منمانی نہیں چلے گی۔ بی جے پی لوک سبھا انتخاب میں آئین کی طاقت دیکھ چکی ہے۔ اسی لیے وہ اب آئین پر بالواسطہ طور پر حملہ کر رہی ہے۔ بی جے پی کے ذریعہ آئین میں دیے گئے التزامات کے اوپر حملہ کیا جا رہا ہے۔ اتر پردیش اساتذہ تقرری گھوٹالے سے واضح ہے کہ بی جے پی ایس سی-ایس ٹی اور او بی سی طبقات کے لوگوں کو ملازمتوں سے محروم رکھنا چاہتی ہے۔ یہ آئین کے ذریعہ دیے گئے ریزرویشن کے حق کی کھلی خلاف ورزی اور سماجی انصاف پر سیدھا حملہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اتر پردیش کا یہ بھرتی گھوٹالہ مدھیہ پردیش کے ویاپم گھوٹالے سے بھی بڑا ثابت ہو سکتا ہے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ریزرو طبقات کے حق پر اس طرح ڈاکہ ڈالنا نہ صرف ناجائز ہے، بلکہ ملک کے سماجی تانے بانے کو بھی کمزور کرتا ہے۔ بابا صاحب امبیڈکر جی نے سماجی، معاشی و سیاسی انصاف کی بات کہی تھی، لیکن بی جے پی حکومت دلت، درج فہرست قبائل اور او بی سی سماج کے لوگوں کو ملازمتوں میں حصہ داری سے بھی محروم رکھ رہی ہے۔ اسی انصاف کی لڑائی کانگریس لیڈران لڑتے آئے ہیں اور لڑ رہے ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی لگاتار سماجی انصاف، حصہ داری، ذات پر مبنی مردم شماری کی بات اٹھاتے رہے ہیں۔ ٹیچر بھرتی گھوٹالہ ان لاکھوں نوجوانوں کے خوابوں پر حملہ ہے جو سالوں سے محنت کر اپنے حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

تنوج پونیا نے کہا کہ کانگریس اس گھوٹالے کی سخت مذمت کرتی ہے اور اتر پردیش حکومت سے فوری جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس بھرتی گھوٹالے کی اعلیٰ سطحی عدالتی جانچ کرائی جائے۔ ریزرو طبقات کے 18500 سے زیادہ عہدوں کو فوراً بحال کر اہل امیدواروں کو ان کا حق دیا جائے۔ اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھا رہے طلبا و اساتذہ پر ہو رہے استحصال کو روکا جائے۔ یوپی حکومت اس عوام مخالف فیصلے کو فوراً واپس لے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کانگریس سماجی انصاف اور آئینی حقوق کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی اور ضرورت پڑنے پر تحریک بھی چلائے گی۔


Share: