ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / دہلی شراب پالیسی: کانگریس کا سی اے جی رپورٹ پر اعتراض، پی اے سی سے تحقیقات کا مطالبہ

دہلی شراب پالیسی: کانگریس کا سی اے جی رپورٹ پر اعتراض، پی اے سی سے تحقیقات کا مطالبہ

Wed, 26 Feb 2025 19:24:31    S O News

نئی دہلی ، 26/نومبر (ایس او نیوز /ایجنسی)دہلی پردیش کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ دہلی اسمبلی میں شراب پالیسی سے متعلق سی اے جی کی 14 میں سے صرف ایک رپورٹ پیش کی گئی۔ کانگریس کو پہلے ہی شبہ تھا کہ اس پالیسی میں بے ضابطگیاں ہیں، جس سے حکومت کے محصولات پر منفی اثر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی نے تحقیقاتی ایجنسیوں کو شراب پالیسی سے متعلق تحریری شکایت دی تھی، جس میں بی جے پی کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی شامل تھے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسمبلی میں تمام 14 رپورٹیں کیوں پیش نہیں کی گئیں؟ ہمارا مطالبہ ہے کہ سی اے جی رپورٹ کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں بھیجا جائے تاکہ اس کی تفصیلی جانچ ہو اور لوٹ میں شامل افراد کو سزا دی جا سکے۔

دیویندر یادو نے کہا، عام طور پر پی اے سی کی قیادت اپوزیشن لیڈر کرتے ہیں، لیکن دہلی میں حکومت ہی اس کی قیادت کرتی آئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان رپورٹوں کو عوامی بحث کے لیے بھی پیش کیا جائے۔

سی اے جی رپورٹ میں کئی اہم سوالات کو نظرانداز کر دیا گیا ہے، جن میں درج ذیل نکات شامل ہیں:

  • - ایک سال کے اندر تین آبکاری ڈائریکٹرز کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیوں اور کس نے لیا؟

  • - دہلی میں نئے شراب برانڈز کو فروغ دینے کی اجازت کیوں دی گئی اور اس کی جانچ کیوں نہیں کی گئی؟

  • - کیجریوال حکومت کی شراب پالیسی کو اس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر نے منظوری دی تھی، تو اس پر کوئی جانچ کیوں نہیں ہوئی؟

  • - ماسٹر پلان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شراب کے ٹھیکے کھولنے کے لائسنس کیسے جاری کیے گئے؟

  • - کارپوریشن کی اجازت کے بغیر شراب کے ٹھیکے نہیں کھل سکتے، اس وقت کارپوریشن میں بی جے پی کی حکومت تھی، پھر بی جے پی نے دہلی حکومت کو نان کنفرمنگ ایریاز میں شراب کے ٹھیکے کھولنے کی اجازت کیوں دی؟

سی اے جی رپورٹ کو تین الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے: لوٹ، جھوٹ اور پھوٹ۔ رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دہلی کے عوام کے پیسے کو لوٹا گیا۔ عام آدمی پارٹی حکومت دعویٰ کرتی رہی کہ وہ محصولات میں اضافہ کر رہی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2002 کروڑ روپے کی لوٹ مار کی گئی۔

ماہرین کی کمیٹی کی سفارشات کو بھی نظرانداز کیا گیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عام آدمی پارٹی نے اس گھوٹالے کے بارے میں جھوٹ بولا۔ عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کی آپسی رسہ کشی کی وجہ سے اسمبلی میں سی اے جی رپورٹ پر بحث نہیں ہو سکی۔

ہمارے مطالبات درج ذیل ہیں:

  • - شراب گھوٹالے کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جائے۔

  • - بی جے پی کے خلاف کانگریس کی جانب سے دی گئی تحریری شکایت پر بھی جانچ ہو۔

  • - شراب گھوٹالے سے متعلق جھوٹ کو عوامی سطح پر بے نقاب کیا جائے۔

دریں اثنا، کانگریس کے سینئر لیڈر سندیپ دکشت نے کہا کہ سی اے جی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ دہلی کی شراب پالیسی جس مقصد کے ساتھ تیار کی گئی تھی، اسے بار بار تبدیل کیا گیا۔ ابتدا میں 77 شرکاء کی شمولیت تھی، جو بعد میں گھٹ کر صرف 14 پر آ گئی اور یہ تمام کمپنیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔ ان میں سے کچھ ادارے ایسے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں کے سیاستدان اور ان کے اہل خانہ عام آدمی پارٹی حکومت کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، یہ بھی حقیقت ہے کہ شراب پالیسی کی باریکیاں اس کے لاگو ہونے سے 8-9 ماہ پہلے ہی زیر بحث آ گئی تھیں۔ کئی افسران کا ماننا تھا کہ یہ پالیسی درحقیقت حکومت اور شراب کے کاروباریوں کے باہمی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی گئی تھی۔ اس پہلو سے الگ سے تحقیقات کی جانی چاہیے۔

سندیپ دکشت نے کہا، عام آدمی پارٹی حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ فی بوتل ایکسائز ڈیوٹی نہیں لگائی جائے گی، بلکہ پرانی پالیسی کے مطابق ایک مقررہ رقم وصول کی جائے گی، جس میں ہر سال 5-10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ اس پالیسی میں شراب کی فروخت کی اصل تعداد پر کوئی کنٹرول نہیں رکھا گیا، حالانکہ دہلی میں 30-40 فیصد شراب غیر قانونی طور پر فروخت ہوتی ہے۔

انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا، اگر دہلی میں پہلے 10 ہزار بوتلیں فروخت ہوتی تھیں، تو نئی پالیسی کے بعد 13 سے 14 ہزار بوتلیں بیچی جا رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ 3-4 ہزار بوتلوں کی فروخت کا ایکسائز حکومت کے پاس نہیں جا رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے 10 ہزار بوتلوں کی فروخت کو ہی معیار کیوں مانا؟ حقیقت میں حکومت نے 30-40 فیصد کی اس چوری کو قانونی منظوری دے دی اور یہ پہلو سی اے جی رپورٹ میں نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

سندیپ دکشت نے مزید کہا کہ پالیسی نافذ ہونے سے پہلے دہلی میں تقریباً 377 شراب کے ٹھیکے تھے، جن میں سے 262 نجی تھے، جبکہ باقی حکومت کے تحت چلتے تھے۔ مگر بعد میں ٹھیکوں کی تعداد بڑھا کر 850 کر دی گئی اور صرف 22 نجی ادارے باقی رہ گئے۔

انہوں نے کہا، اس پالیسی میں کچھ مخصوص برانڈز کو فروغ دیا گیا، جب کہ کئی برانڈز کو دبایا گیا۔ دہلی میں ان برانڈز کو مسلط کیا گیا جنہیں این سی آر میں پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ مزید برآں، مارکیٹ میں غیر منصفانہ مسابقت کو فروغ دینے کے الزامات بھی سامنے آئے، جو کہ بدعنوانی کے زمرے میں آتا ہے۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ دہلی میں وہ برانڈز کیوں فروغ دیے گئے، جن کے پلانٹس پنجاب میں تھے؟ یہ سب جانتے ہیں کہ پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے اور اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ عام آدمی پارٹی نے اپنے مفاد میں شراب کی فروخت کو کنٹرول کیا۔ دہلی کے عوام کو اپنی پسند کے برانڈز لینے کی آزادی نہیں دی گئی، بلکہ انہیں زبردستی ان کمپنیوں کی شراب فروخت کی گئی، جو عام آدمی پارٹی کے زیر اثر علاقوں سے تعلق رکھتی تھیں۔

سندیپ دکشت نے اس پورے معاملے کی مجرمانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس گھوٹالے میں شامل تمام ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔


Share: