ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کیجریوال 200 یونٹ مفت بجلی کے تحت بلنگ میں بدعنوانی کرتے ہیں: کانگریس کا الزام

کیجریوال 200 یونٹ مفت بجلی کے تحت بلنگ میں بدعنوانی کرتے ہیں: کانگریس کا الزام

Sat, 25 Jan 2025 11:03:52    S.O. News Service

نئی دہلی  ، 25/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی)کانگریس نے دہلی کی عآپ حکومت پر سنگین الزام عائد کیا ہے کہ اس نے 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کے منصوبے کے ذریعے عوام کو فائدہ پہنچانے کا دعویٰ کیا، لیکن دوسری طرف بلنگ میں بدعنوانی کے ذریعے اس منصوبے کے اثرات کو چھپانے کی کوشش کی۔ یہ الزام کانگریس نے ایک پریس کانفرنس میں لگایا، جس میں کئی اہم حقائق میڈیا کے سامنے پیش کیے گئے۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے دفتر 'راجیو بھون' میں منعقد اس پریس کانفرنس میں کمیونکیشن ڈپارٹمنٹ کی رشمی سنگھ مگلانی، ڈاکٹر ارون اگروال، عاصمہ تسلیم، جیوتی سنگھ، ہروندر سنگھ بوانا اور ایڈووکیٹ وندنا ملک سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رشمی سنگھ مگلانی، ڈاکٹر ارون اگروال اور ہروندر سنگھ بوانا نے خاص طور سے کیجریوال حکومت کی مفت بجلی اسکیم کو ہدف تنقید بنایا۔ انھوں نے کہا کہ کیجریوال کی حکومت نے 200 یونٹ مفت بجلی اسکیم سے ہونے والے ریونیو خسارے کو پورا کرنے کے لیے بجلی بلوں میں بدعنوانی کا منصوبہ بنایا۔ عآپ حکومت کے ذریعہ اس کے لیے 4 طریقے استعمال کیے گئے۔ یعنی بدعنوانی کے لیے 4 طریقے بجلی بلوں میں استعمال ہوئے۔ پہلے پنشن ٹرسٹ کے 4125 کروڑ روپے تھے اور غور کرنے والی بات ہے کہ 21 اکتوبر 2017 سے آج تک اس کا کوئی آڈٹ نہیں ہوا۔ کانگریس لیڈران نے الزام عائد کیا کہ سیکورٹی ڈپازٹ کے نام پر 2018 سے اب تک 15-10 کروڑ روپے کی لوٹ ہوئی۔ فکس چارج 23 مئی 2015 اور پی پی اے سی 24 ستمبر 2018 کو بڑھایا گیا اور کووڈ کے دوران (جون 2020) اس میں اضافہ کر لوٹ جاری ہے۔

کانگریس لیڈران نے کہا کہ شیلا حکومت پر ’مہاٹھگ کیجریوال‘ نے بجلی سے متعلق جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کیے، لیکن سامنے کچھ نہیں آیا۔ کیجریوال نے دہلی والوں سے بجلی شرحوں میں نصف کٹوتی کی بات کہی تھی، لیکن بجلی کی شرح اوسطاً 10 روپے فی یونٹ وصول کی جا رہی ہے۔ بجلی کمپنیوں کا آڈٹ کرانے کی بات کرنے والے کیجریوال 10 سالوں میں آج تک آڈٹ نہیں کروا پائے، کیونکہ ڈسکام اور کمپنیوں کے درمیان لین دین میں زبردست بدعنوانی ہو رہی ہے۔ صارفین کی سبسیڈی کا فائدہ کمپنیوں کو پچھلے دروازے سے پہنچایا جا رہا ہے۔

ہروندر بوانا نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آتشی تو کیجریوال سے 4 قدم آگے چل رہی ہیں۔ پڑھی لکھی وزیر اعلیٰ کو اپنی حکومت کی ریاضی سمجھنی پڑے گی۔ کرسی پر بنے رہنے کے لیے اپنی تقریروں میں وہ کہہ رہی ہیں کہ 400 یونٹ بجلی کا بل 980 روپے آتا ہے۔ میں بتانا چاہتا ہوں کہ شیلا دیکشت نے بجلی کا پرائیویٹائزیشن کر کے جہاں دہلی کو 24 گھنٹے بجلی دی، وہیں بجلی کے بلوں کو قابو مین رکھا اور پورے 15 سالوں میں صرف 4-2 بار ہی شرحیں محض نام کی بڑھائی گئیں۔ یہ بھی سچائی ہے کہ پنشن کا پیسہ کانگریس حکومت صارفین سے نہیں وصول کرتی تھی، اور نہ ہی بھاری بھرکم سرچارج لیتی تھی۔


Share: