ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اے آئی سمٹ کے دوران گالگوٹیاس یونیورسٹی کے بوتھ سے چین ساختہ روبو ڈاگ غائب

اے آئی سمٹ کے دوران گالگوٹیاس یونیورسٹی کے بوتھ سے چین ساختہ روبو ڈاگ غائب

Thu, 19 Feb 2026 12:35:45    S O News

نئی دہلی، 19/ فرور ی (ایس اونیوز /ایجنسی) قومی راجدھانی نئی دہلی میں منعقدہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ تنازع سے گھِر گیا ہے۔ سمٹ میں گالگوٹیاس یونیورسٹی کے اسٹال پر نمائش کے لئے رکھے گئے روبوڈوگ کو ہٹا دیا گیا ہے جس کے بارے میں یونیورسٹی نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ یہ روبوڈوگ اس کا تیار کردہ ہے۔ تاہم، بعد میں انکشاف ہوا کہ اسے چین سے درآمد کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد شفافیت، ایونٹ منیجمنٹ اور مقامی سطح پر ایجادات کے دعوؤں کے حوالے سے سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔

اے آئی سمٹ میں اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا کی گالگوٹیاس یونیورسٹی کے اسٹال پر نمائش کیلئے رکھے گئے روبوڈوگ کی شناخت ’Unitree Go2‘ کے طور پر ہوئی جو چینی روبوٹکس فرم ’Unitree Robotics‘ کی تیار کردہ تجارتی مصنوعات ہے۔ تقریباً ۲۸۰۰ ڈالر (تقریباً ۳ء۲ لاکھ روپے) مالیت کا یہ کواڈروپڈ (چار پیروں والا) روبوٹ مارکیٹ میں دستیاب ہے اور یہ یونیورسٹی کا تیار کردہ کوئی اصل پروٹوٹائپ نہیں ہے۔

سرکاری ذرائع کا حوالہ دینے والی رپورٹس کے مطابق، اس روبوڈوگ کی نمائش اور اس کو بنانے کے دعوے پر شدید ردِعمل اور تنقید کے بعد یونیورسٹی کو سمٹ کے ایکسپو ایریا میں اپنا اسٹال فوری طور پر خالی کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ بعد ازیں متنازع روبوڈوگ، جو شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا، وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ معاملے کی سنگینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آن لائن صارفین نے دعویٰ کیا کہ سمٹ کے دوران اس روبوٹ کو یونیورسٹی کی اپنی تخلیق کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ ایکس پر کمیونٹی نوٹ میں یونیورسٹی کی وضاحت کو چیلنج کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ نمائش کے دوران اسے ادارے کی اپنی کاوش قرار دیا تھا۔

گالگوٹیاس یونیورسٹی نے اس دعوے کی تردید کی کہ اس نے متنازع روبوڈوگ خود تیار کیا ہے۔ ایک بیان میں یونیورسٹی نے کہا کہ یہ آلہ طلبہ کو جدید روبوٹکس کا عملی تجربہ فراہم کرنے کے لئے خریدا گیا تھا۔ یونیورسٹی نے واضح کیا کہ ”گالگوٹیاس یونیورسٹی نے یہ روبوڈوگ نہیں بنایا اور نہ ہی ہم نے ایسا کوئی دعویٰ کیا ہے۔ یونیورسٹی تعلیمی مقاصد کے لئے چین، سنگاپور اور امریکہ جیسے ممالک سے باقاعدگی سے جدید ترین ٹیکنالوجی درآمد کرتی ہے۔“

یونیورسٹی کی پروفیسر نیہا سنگھ نے بھی اس تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نمائش کے دوران غیر واضح بات چیت کی وجہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوئی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ شاید پیغام ”مناسب طریقے“ سے نہیں پہنچایا جا سکا۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ یونیورسٹی کا مقصد مصنوعات کی مینوفیکچرنگ (تیاری) کا دعویٰ کرنا ہرگز نہیں تھا۔

روبوڈوگ تنازع کے چند گھنٹے بعد، یونیورسٹی کو سمٹ میں نمائش کردہ ڈرون پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو میں یونیورسٹی کے نمائندے کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ ڈرون کیمپس میں ”شروعات سے“ بنایا گیا ہے اور ادارے نے ہندوستان کا پہلا `ڈرون سوکر ایرینا` قائم کیا ہے۔ تاہم، انٹرنیٹ صارفین نے نشان دہی کی کہ یہ ڈرون Striker V3 ARF سے مشابہت رکھتا ہے، جو Skyball Drone نامی کمپنی کا تیار کردہ تجارتی ڈرون سوکر ماڈل ہے اور بین الاقوامی مارکیٹ میں تقریباً ۴۰ ہزار روپے میں فروخت ہوتا ہے۔

صارفین نے ڈرون کے ڈیزائن اور حفاظتی فریم میں مماثلت کی بنیاد پر سوالات اٹھائے کہ آیا یہ ڈرون واقعی یونیورسٹی میں ڈیزائن کیا گیا ہے یا اسے کمرشیل کٹ سے جوڑ کر تیار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین نے گالگوٹیاس یونیورسٹی سے شفافیت کا مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ ایسے تنازعات عالمی سطح پر ہندوستان کی تعلیمی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔    


Share: