چندی گڑھ، 19/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی)مرکزی حکومت 14 فروری کو چندی گڑھ میں پنجاب کے مظاہرین کسانوں کے ساتھ میٹنگ کرے گی، جس میں ان کے اہم مطالبات پر بات چیت ہوگی۔ اس بات کی تصدیق ایک سینئر سرکاری افسر نے کی ہے۔ مظاہرین کسان فصلوں کے لیے کم سے کم حمایتی قیمت (ایم ایس پی) پر قانونی گارنٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میٹنگ کے اعلان کے بعد بزرگ کسان رہنما جگجیت سنگھ ڈلیوال طبی امداد لینے پر راضی ہو گئے ہیں۔ ان کی تامرگ بھوک ہڑتال ہفتہ تک 54 دن مکمل کر چکی ہے۔ کسان رہنما سکھ جیت سنگھ ہردو جھنڈے کا کہنا ہے کہ ایم ایس پی پر قانونی گارنٹی ملنے تک ڈلیوال اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے۔
اس سے پہلے جوائنٹ سکریٹری پریہ رنجن کی قیادت میں مرکزی وزارت زراعت کے افسروں کے ایک نمائندہ وفد نے ڈلییوال سے ملاقات کی اور سنیوکت کسان مورچہ (غیر سیاسی) اور کسان مزدور مورچہ کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کی، جو گزشتہ 11 مہینوں سے تحریک کی قیادت کر رہے ہیں۔ 14 فروری کو میٹنگ کے اعلان کے بعد کسان رہنماؤں نے ڈلیوال سے طبی امداد لینے کی اپیل کی تاکہ وہ مجوزہ بات چیت میں حصہ لے سکیں۔
14 فروری کو ہونے والی میٹنگ شام 5 بجے چنڈی گڑھ کے مہاتما گاندھی راجیہ لوک پرشاسن سنستھان میں ہوگی۔ کھنوری دھرنا کے مقام پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پریہ رنجن نے کہا کہ جگجیت سنگھ ڈلیوال کی بگڑتی صحت کو دھیان میں رکھتے ہوئے مرکزی حکومت کے ذریعہ ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ وفد بھیجا گیا تھا۔ ہم نے ان کی صحت کے بارے میں جانکاری لی اور کسان تنظیموں کے نمائندوں سے میٹنگ کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم گزارش کرتے ہیں ڈلیوال اپنی بھوک ہڑتال توڑ دیں اور طبی امداد لیں تاکہ وہ میٹنگ میں حصہ لے سکیں۔