نئی دہلی 21/مارچ (ایس او نیوز): دہلی ہائی کورٹ کے جج یشونت ورما کے سرکاری بنگلے سے غیر محسوب نقدی برآمد ہونے کے بعد سپریم کورٹ کالجیم نے انہیں واپس الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ہولی کی تعطیلات کے دوران ان کی رہائش گاہ میں آگ لگنے کے بعد ہنگامی خدمات کو طلب کیا گیا، اور پولیس کو اطلاع دی گئی، جس کے بعد وہاں بڑی مقدار میں نقدی دریافت ہوئی۔

یہ معاملہ اعلیٰ عدالتی حکام تک پہنچنے کے بعد، چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی سربراہی میں کالجیم نے متفقہ طور پر جسٹس ورما کے تبادلے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، کچھ کالجیم ارکان نے کہا کہ محض تبادلہ کافی نہیں ہوگا، اور اس معاملے میں سخت کارروائی کی جانی چاہیے تاکہ عدلیہ کی ساکھ پر کوئی حرف نہ آئے۔
ذرائع کے مطابق، جسٹس ورما نے ابھی تک نقدی کی برآمدگی کے معاملے پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی PTI کے مطابق، وہ جمعرات کے روز عدالت میں پیش نہیں ہوئے اور "رخصت پر چلے گئے"۔
چیف جسٹس آف انڈیا نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا، اور کالجیم کے پانچوں ارکان نے جسٹس ورما کے فوری تبادلے پر اتفاق کیا۔ تاہم، بعض ارکان نے تجویز دی کہ انہیں استعفیٰ دینے کے لیے کہا جائے، اور اگر وہ انکار کریں تو چیف جسٹس اندرونی تحقیقات کا آغاز کریں، جو بالآخر پارلیمنٹ کے ذریعے ان کی برطرفی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیا۔ عدالت میں سینئر وکیل ارون بھاردواج نے اس معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہا،
"آج کا واقعہ ہم میں سے بہت سوں کو تکلیف پہنچا رہا ہے۔ برائے کرم ایسے اقدامات کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں اور عدالتی نظام پر عوامی اعتماد برقرار رہے۔"
ہائی کورٹ کے جج کو ہٹانے کا طریقہ کار
سپریم کورٹ نے 1999 میں عدالتی بدعنوانی اور بے ضابطگیوں سے نمٹنے کے لیے اصول مرتب کیے تھے۔ ان کے مطابق:
1. اگر کسی جج کے خلاف بدعنوانی یا غلط طرز عمل کی شکایت موصول ہو تو چیف جسٹس سب سے پہلے متعلقہ جج سے وضاحت طلب کریں گے۔
2. اگر جواب غیر تسلی بخش ہو یا معاملہ مزید جانچ کا متقاضی ہو، تو چیف جسٹس ایک تحقیقی کمیٹی تشکیل دیں گے، جس میں ایک سپریم کورٹ جج اور دو ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شامل ہوں گے۔
3. اگر رپورٹ میں جج کے خلاف سنگین الزامات ثابت ہوں، تو چیف جسٹس اس سے استعفیٰ طلب کریں گے۔
4. اگر جج استعفیٰ دینے سے انکار کرے تو چیف جسٹس حکومت کو لکھ کر پارلیمنٹ کے ذریعے برطرفی کی کارروائی کا آغاز کر سکتے ہیں، جو کہ آئین کے آرٹیکل 124(4) کے تحت عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
کپل سبل کا بیان: "عدلیہ میں بدعنوانی ایک سنگین مسئلہ"
سینئر وکیل اور راجیہ سبھا کے رکن کپل سبل نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ ججوں کی تقرری کے عمل پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے کہا: "عدلیہ میں بدعنوانی ایک سنگین مسئلہ ہے... یہ پہلی بار نہیں کہ وکلا اور سینیئر وکلاء نے اس مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ یہ معاملہ کئی سالوں سے چل رہا ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ججوں کی تقرری کا عمل زیادہ شفاف اور محتاط طریقے سے ہونا چاہیے۔
“بدعنوانی ایک انتہائی سنگین مسئلہ ہے، اور وزیر اعظم نریندر مودی کے تمام دعووں کے باوجود، ملک میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔”