نئی دہلی ، 17/ مارچ (ایس او نیوز/ ایجنسی)پارلیمنٹ میں پیر سے شروع ہونے والے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں داخلہ، زراعت، صحت، ریلوے اور آبی وسائل کی وزارتوں کی کارکردگی پر سخت بحث اور ہنگامے کا امکان ہے۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق، انتخابی فہرستوں میں خامیوں کے معاملے پر بھی بحث کا مطالبہ برقرار رہے گا۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اجلاس کے ابتدائی مراحل میں زراعت، ریلوے اور آبی وسائل کے لیے گرانٹس کے مطالبات بجٹ میں شامل کر کے منظوری دی جائے گی، جبکہ باقی گرانٹس کے مطالبات اور مالیاتی بل 2025ء پر بھی غور کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مالیاتی بل محض ایک تجویز کی شکل میں پیش کیا جائے گا۔ پیر کے روز لوک سبھا میں ریلوے کے لیے گرانٹس کے مطالبات پر بحث اور ووٹنگ متوقع ہے، جبکہ زراعت اور آبی وسائل کے مطالبات پر بعد میں غور کیا جائے گا۔ اس دوران راجیہ سبھا میں وزیر ریلوے اشوینی ویشنو اپنی وزارت سے متعلق بحث کا جواب دیں گے، جس کے بعد منی پور بجٹ اور دیگر اخراجاتی بلوں پر بھی بحث ہوگی۔
منگل کو راجیہ سبھا میں وزارت صحت کے کام کاج پر بحث ہوگی اور اس کے بعد اگلے دن وزارت داخلہ کے امور زیر بحث آئیں گے ۔ اس دوران اپوزیشن ناقص انتخابی فہرستوں پر بحث کا مطالبہ کرےگا اور اس کے بعد حد بندی پر بحث کی جائے گی۔ ایک سینئر اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ہم اس ضابطے پر زور نہیں دے رہے ہیں جس کے تحت الیکٹورل رول اور ایک نمبر والے ایک سے زیادہ شناختی کارڈز (ای پی آئی سی) کا مسئلہ زیر بحث لایاجانا ہے۔ ہم اس پر صرف بحث چاہتے ہیںاور اس کا طریقہ کار حکومت کو طے کرنا ہے۔‘‘
اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے اندر ای پی آئی سی اور حد بندی دونوں مسائل کو اٹھایا ہے اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی میں خلل ڈالے بغیر پُر زور احتجاج نہیں کیا ہے لیکن آج سے شروع ہونے والے اجلاس میںیہ احتجاج شدید ہونے کا امکان ہے۔ دونوں ایوانوں نے بجٹ سیشن کے پہلے مرحلے میں کچھ بلوں کو بھی منظور کیا ہے اور وزارتوں پر بحث کی ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کو توقع ہے کہ حکومت دونوں موضوعات پر بحث کے لیے ان کے مطالبات کا جواز تسلیم کرے گی۔ ترنمول کانگریس ای پی آئی سی پر بحث پر اصرار کر رہی ہے جبکہ ڈی ایم کے نے حد بندی پر بحث کیلئے احتجاج کی قیادت کی ہے۔ پہلے مرحلے میں جہاں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے لوک سبھا میں انتخابی فہرستوں پر بحث کا مطالبہ کیا تھا، وہیں آر جے ڈی کے منوج جھا نے راجیہ سبھا میں کامیابی سے یہ مسئلہ اٹھایا ۔ ڈی ایم کے کے لیڈروں نے دونوں ایوانوں میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کی حمایت سے حد بندی کا مسئلہ اٹھایا ہے۔
اس دوران راجیہ سبھا میں، وزیرریلوے اشوینی ویشنو اپنی وزارت سے متعلق بحث کا جواب د یں گے۔ اس کے بعد منی پور بجٹ اور دیگر اخراجاتی بلوں پر بحث ہوگی۔