ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کیجریوال کا دہلی پولیس پر ’آپ‘ کی مہم روکنے اور ووٹروں کو دھمکانے کا الزام

کیجریوال کا دہلی پولیس پر ’آپ‘ کی مہم روکنے اور ووٹروں کو دھمکانے کا الزام

Thu, 23 Jan 2025 12:18:21    S.O. News Service

نئی دہلی ، 23/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، جن کے مطابق وہ دہلی پولیس کا استعمال کر کے ان کی پارٹی کی انتخابی مہم کو روکنے اور ووٹروں میں خوف پیدا کر کے انتخابات کو متاثر کر رہی ہے۔ کیجریوال نے کہا کہ دہلی پولیس کے اہلکار بی جے پی کے ساتھ مل کر مخالفین کی انتخابی سرگرمیوں کو روکنے میں ملوث ہیں، بجائے اس کے کہ وہ عوام کی حفاظت کریں۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ ایک تھانہ انچارج نے انہیں بتایا کہ انہیں براہ راست وزارت داخلہ سے ہدایات ملتی ہیں تاکہ وہ 'آپ' کی ریلیوں کو روکے۔ کیجریوال نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ پولیس کی جانبداری سے دہلی کے عوام کی حفاظت متاثر ہو رہی ہے، اور بی جے پی کے کارکنوں کو پولیس کی مدد سے تشویش پھیلانے کا موقع مل رہا ہے۔

 کیجریوال نے مزید کہا کہ بی جے پی اس وقت دہلی میں ’تاریخی شکست‘ کے خطرے سے دوچار ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو پولیس کی مدد سے عوامی رائے کو متاثر کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس بی جے پی کی انتخابی مہم میں مدد فراہم کر رہی ہے اور ’آپ‘ کی مہم میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دہلی کی وزیر اعلیٰ آتشی اور پارٹی کے سینئرلیڈر اوروزیر سوربھ بھاردواج نے بھی کیجریوال کے اس موقف کی تائید کی اور کہا کہ بی جے پی کے کارکنوں کی جانب سے ’آپ‘ کے کارکنوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ آتشی نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے امیدوار رمیش بدھوڑی آپ کے کارکنوں کو بی جے پی میں شامل ہونے کے لیے دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ اس کے خلاف الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرائی جائے گی۔

آتشی نے مزید کہا کہ بی جے پی کے کارکنان گھر گھر جاکر آپ کی انتخابی مہم میں مداخلت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مداخلت دہلی کے عوام کی آزادی کو سلب کرنے کی ایک کوشش ہے اور اس کا مقصد صرف آپ کی کامیابی کو روکنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہلی کے عوام کو بی جے پی کے ان اقدامات کا سخت جواب دینا ہوگا۔

سوربھ بھاردواج نے بھی الزام لگایا کہ بی جے پی اپنے سیاسی مفادات کیلئے پولیس کا بیجا استعمال کر رہی ہے تاکہ آپ کی انتخابی مہم کو ناکام بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عوامی جمہوریت کی روح کے خلاف ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہئے۔ اس تمام صورتحال کے بیچ، کیجریوال نے دہلی کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایک ساتھ آ کر بی جے پی کے غیر جمہوری حربوں کا مقابلہ کریں اور انتخابات میں ایک مضبوط پیغام بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے عوام کو اس بار بی جے پی کو سخت جواب دینا ہوگا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو دہلی میں حکمراں عام آدمی پارٹی (آپ) پر لوک پال کی تشکیل جیسے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو شکست کا اتنا ڈر ہے کہ وہ نئی نئی پالیسی بنا رہی ہے اور انہیں ہر روز اعلانات کرنے پڑتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ آپ کی حکومت نے دہلی کے لوگوں کو آیوشمان جیسی مرکزی فلاحی اسکیموں سے محروم رکھنے کا گناہ کیا ہے۔ دہلی اسمبلی انتخابات کے لیے زوردار مہم کے درمیان مودی نے بدھ کو دہلی میں بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے نمو ایپ کے ذریعے بات چیت کی۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ ہر بوتھ پر محنت کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے لوگوں نے حکومت بدلنے کا ذہن بنا لیا ہے اور کارکنوں کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ اس بار پارٹی کو ہر بوتھ پر۵۰؍ فیصد ووٹ ملے۔ آپ کو’آپدا‘ (آفت) قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہلی کے لوگ اب آپدا کے جھوٹ اور فریب سے تنگ آچکے ہیں۔ پہلے کانگریس اور پھر آپ کی آپدا نے دہلی کے لوگوں کو بہت دھوکہ دیا ہے۔ یہ آپدا والے اب ہر روز ایک نیا اعلان کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر روز انہیں (انتخابات میں ) اپنی آنے والی شکست کی نئی خبریں مل رہی ہیں۔ وہ اتنے ڈرے ہوئے ہیں کہ انہیں ہر صبح ایک نیا اعلان کرنا پڑتا ہے۔

 مودی نے کہا کہ ہم نے آپ کے لوگوں سے دہلی میں مفت صحت کی دیکھ بھال کیلئے آیوشمان بھارت اسکیم کو نافذ کرنے کی درخواست کی لیکن وہ اسے نافذ نہیں کرنا چاہتے۔ میں دہلی کے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اس اسکیم کے بہت سے فائدے ہیں، لیکن ’آپدا‘ کے لوگوں نے اس اسکیم کے نفاذ میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا کہ یہ آپدا والے اپنے وعدوں اور الفاظ سے مکر گئے۔ یہ پارٹی جن لوک پال کے نام پر بنی تھی لیکن آج تک جن لوک پال نہ دہلی میں ہے، نہ پنجاب میں اور نہ ہی اب اس کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں اس پارٹی کو اس کیلئےبہانے ملتے ہیں، جبکہ پنجاب میں ان کی حکومت ہے لیکن وہ وہاں بھی لوک پال نہیں بنا رہے ہیں۔ 


Share: