ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کڈبا ٹاون پنچایت کی ایک سیٹ پر بی جے پی کی شرمناک شکست - امیدوار کو نہیں ملا ایک بھی ووٹ

کڈبا ٹاون پنچایت کی ایک سیٹ پر بی جے پی کی شرمناک شکست - امیدوار کو نہیں ملا ایک بھی ووٹ

Sat, 23 Aug 2025 16:50:10    S O News
کڈبا ٹاون پنچایت کی ایک سیٹ پر بی جے پی کی شرمناک شکست - امیدوار کو نہیں ملا ایک بھی ووٹ

منگلورو ،23 / اگست (ایس او نیوز) کڈبا ٹاون پنچایت کے انتخابات میں وارڈ نمبر 1 کی سیٹ پر بی جے پی کو انتہائی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ اس کی طرف سے میدان میں اترنے  والے امیدوار کو ایک ووٹ بھی نہیں ملا ہے ۔
   
معلوم ہوا ہے کہ بیک ورلڈ کلاس اے کی خواتین کے لئے مختص وارڈ نمبرایک [کلارا] کی 418 ووٹوں والی سیٹ پر بی جے پی نے پریما نامی خاتون کو اپنا امیدوار بنایا تھا جو کہ اس وارڈ کی ووٹر بھی نہیں تھی ۔  اس کے مقابلے میں کانگریس پارٹی کی امیدوار تمنّا جبین نے اپنی مد مقابل آزاد امیدوار جینا بی آدم کو 62 ووٹوں کی مارجن سے شکست دیتے ہوئے اپنے لئے 201 ووٹوں کے ساتھ شاندار جیت درج کی ۔  
    
جبکہ پریما کے حق میں ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا گیا تھا ۔ اس سیٹ پر جملہ 4 امیدواروں نے مقابلہ کیا تھا جن میں سے ایس ڈی پی آئی کی امیدوار نے 74 ووٹ حاصل کیے تھے ۔ 
    
بی جے پی کی پریما اس الیکشن میں وارڈ نمبر 6 میں بھی امیدوار بنی تھی جہاں اس نے 117 ووٹ تو حاصل کر لیے مگر کانگریس پارٹی کی نیلاوتی شیوا رام نے 314 ووٹوں کے ساتھ بازی جیت لی ۔ 
    
بی جے پی لیڈروں نے وارڈ نمبر 1 میں اپنی امیدوار کے لئے ایک بھی ووٹ نہ ملنے کی توجیہہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے ۔ بی جے پی دکشن کنڑا کے صدر ستیش کماپا نے بتایا کہ امیدواروں کی نامزدگی کے بعد پارٹی کے لئے وہاں پر ووٹ حاصل کرنے کی کم گنجائش کو دیکھتے ہوئے مقامی منڈل یونٹ نے آزاد امیدوار جینا بی آدم کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔
    
اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی کے صدر کے ہریش کمار نے اشارہ کیا کہ  یہاں تک کے بی جے پی بوتھ صدر اور پریما کا نام تجویز اور حمایت کرنے والے دو لوگوں نے بھی اپنی امیدوار کے حق میں ووٹ نہیں دیا تھا ۔ سابق ضلع پنچایت رکن ایم ایس محمد نے الزام لگایا کہ " اس شرمناک شکست کے لئے خود بی جے پی کے لیڈران ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے تمنّا جبین کو شکست دینے اور اسے ٹاون پنچایت کی صدر بننے سے روکنے کے مقصد ایک باہری خاتون کو یہاں پر امیدوار بنایا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی حمایت جبینا آدم کی طرف موڑ دی جس کا الٹا اثر ہوا ۔"
    
بی جے پی کی طرف سے وارڈ نمبر 3 میں آدم کنڈولی ایک مسلم امیدوار بھی میدان میں اتارا گیا تھا جس نے کانگریس پارٹی کے امیدوار مقابلے میں صرف 75 ووٹ حاصل کیے اور اسے شکست سے دوچار ہونا پڑا ۔ 
    
یہ گارنٹی اسکیموں کی جیت ہے :خیال رہے کہ کڈبا گرام پنچایت کو ٹاون پنچایت کا درجہ ملنے کے بعد یہ پہلا الیکشن تھا اور کانگریس پارٹی نے اس میں شاندار جیت درج کی ہے، جس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ضلع کانگریس صدر ہریش کمار نے کہا کہ یہ کانگریسی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی پانچ گارنٹی اسکیموں کی جیت ہے ۔
    
انہوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ " کڈبا میں اسمبلی اور پارلیمانی الیکشن میں پیچھے رہ جانے کے بعد کانگریس پارٹی نے دوبارہ واپسی کی ہے ۔ ہم نے 13 نشستوں والی کڈبا ٹاون پنچایت میں 8 سیٹوں پر جیت درج کی ہے جبکہ بی جے پی کے حصے میں پانچ سیٹیں آئی ہیں ۔ اسی کے ساتھ ہریش کمار نے بی جے پی یہ الزام بھی لگایا کہ اس نے الیکشن جیتنے کے لئے کئی ہتھکنڈے استعمال کیے جس میں کم از کم چار وارڈوں میں الیکشن کے دوران میں رقم تقسیم کرنا بھی شامل ہے ۔"    


Share: