ممبئی ،2/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)مہاراشٹر میں برڈ فلو نے ایک بار پھر خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔ کارنجا تعلقہ کے کھیرڈا گاؤں کے ایک پولٹری فارم میں موجود تقریباً 8 ہزار مرغیوں میں سے 6831 مرغیاں پراسرار حالات میں ہلاک ہو گئیں، جس کے بعد انتظامیہ متحرک ہو گئی ہے۔ 27 فروری کو موصول ہونے والی لیب رپورٹ میں برڈ فلو انفیکشن کی تصدیق ہونے کے بعد ضلع انتظامیہ نے فوری طور پر ہائی الرٹ جاری کر دیا۔ تازہ اطلاعات کے مطابق، مزید مرغیوں کی ہلاکت کے پیش نظر کچھ اہم حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 20 سے 25 فروری کے درمیان پولٹری فارم میں لگاتار مرغیوں کی موت دیکھنے کو ملی، جس کے بعد مردہ مرغیوں کے سیمپل اکولا کے تجربہ گاہ میں جانچ کے لیے بھیجے گئے تھے۔ اس کے بعد پونے واقع قومی اعلیٰ حفاظتی مویشی امراض انسٹی ٹیوٹ اور بھوپال کی تجربہ گاہ میں بھی وسیع جانچ ہوئی۔ 27 فروری کو جو رپورٹ سامنے آئی اس میں ایچ 5 این 1 وائرس (برڈ فلو) کی تصدیق ہوئی۔
رپورٹ سامنے آنے کے بعد متاثرہ علاقہ کو سینیٹائز کرنے کی مہم تیز کر دی گئی ہے۔ انتظامیہ بچی ہوئی مرغیوں کو ہلاک کرنے میں مصروف ہے۔ ساھ ہی پولٹری فارم سے مرغیوں کو لانے یا لے جانے اور فروخت کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ہر تعلقہ میں تحصیلدار کی نگرانی میں خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ اس درمیان کلکٹر اور ضلع ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی برڈ فلو کے پھیلاؤ کو روکنے والی ترکیبوں کو نافذ کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ برڈ فلو کے وائرس نے گزشتہ 2 سالوں میں دنیا کے کئی ممالک میں لاکھوں پرندوں کا صفایا کیا ہے اور صرف پرندہ ہی نہیں، کئی جانوروں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان میں اودبلاؤ، سیل، ہاربر پورپس اور لومڑی وغیرہ شامل ہیں۔ متاثرہ پرندوں کے پاس رہنے سے یہ بیماری تیزی سے پھیلتی ہے۔ برڈ فلو، جسے ایوین انفلوئنزا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ متاثرہ پرندوں یا ان کی گندگی کے براہ راست رابطہ میں آنے سے انسانوں میں بھی تیزی سے پھیلتا ہے۔