ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: مویشیوں کی ہڈیوں کے فوٹوز سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام میں سخت تشویش؛ کیا پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہے ؟

بھٹکل: مویشیوں کی ہڈیوں کے فوٹوز سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام میں سخت تشویش؛ کیا پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہے ؟

Fri, 12 Sep 2025 01:04:20    S O News
بھٹکل: مویشیوں کی ہڈیوں کے فوٹوز سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوام میں سخت تشویش؛ کیا پُرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازش ہے ؟

بھٹکل 11؍ ستمبر (ایس او نیوز): سوشیل میڈیا پر اچانک مویشیوں کی ہڈیوں اور ڈھانچوں کی تصاویر سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سوال اٹھنے لگے ہیں کہ کہیں بھٹکل کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی ہے؟ وائرل پیغام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تعلقہ کے مخدوم کالونی علاقے میں بڑی تعداد میں ہڈیاں اور ڈھانچے پائے گئے ہیں اور گزشتہ دو دنوں میں بڑی سطح پر مویشیوں کا ذبیحہ ہوا ہے۔ خبر وائرل ہوتے ہی بعض میڈیا میں یہ خبر شائع ہوگئی، جس کے بعد معاملہ ریاستی سطح پر موضوع بحث بن گیا ہے۔ مگر جانچ کے بعد پتہ چلا کہ وہ 12/13 سال پرانے فوٹوز ہیں، جس کو بنیاد بناکر بعض شرپسند عناصر بھٹکل کی مخصوص کمیونٹی کے خلاف نفرت پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔

Click here for report in English 

اس سلسلے میں پولیس اور بلدیہ کے افسران نے وضاحت دی کہ وائرل تصاویر کافی پرانی لگ رہی ہیں اور جائے وقوعہ کا جائزہ لینے کے بعد وہاں پر کسی قسم کی ہڈیاں یا باقیات نہیں پائی گئیں۔ میونسپل چیف آفیسر وینکٹیش ناوڈا نے بتایا کہ اطلاع ملتے ہی وہ جائے وقوع پر پہنچے اور معائنہ کیا مگر کوئی ہڈیاں نہیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ تصاویر میں بارش کا پانی دکھائی دے رہا ہے، جبکہ بھٹکل میں گزشتہ تین چار دن سے بارش نہیں ہوئی، اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ تصاویر پرانی ہیں۔

ویڈیو اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد سنگھ پریوار تنظیموں کے کارکنان نے پولس تھانہ پہنچ کر انتظامیہ پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی ذبیحہ کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا، جس کے بعد پولیس نے بھی فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے معاملے کی جانچ شروع کردی ہے۔ 

مخدوم کالونی کے باشندوں کا کہنا ہے کہ بھٹکل میں حالیہ دنوں میں امن قائم ہے لیکن پرانی مچھلی مارکٹ کے مسئلے پر کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد اب پرانی تصاویر وائرل کرکے دو کمیونٹی کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اور شہر میں مخصوص عناصر خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں اور ہوشیار رہیں۔

سوشیل میڈیا میں اس طرح کی تصاویر وائرل کئے جانے اور ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف کسی بھی طرح کی کاروائی نہ کئے جانے پر بھی لوگ سوال اٹھا رہے ہیں اور آئندہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اس کو لے کر عوام میں بے چینی پائی جارہی ہے۔


Share: