بھٹکل، 22 / نومبر (ایس او نیوز) بھٹکل ٹاون میونسپل کاونسل (ٹی ایم سی) کا درجہ بڑھا کر سٹی میونسپل کاونسل (سی ایم سی) بنانے کی تجویز کے مسودے پرعوام کی طرف سے اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ تک کسی کی بھی طرف سے اعتراض داخل نہیں کیا گیا ۔ اس طرح اصولی طور پر اس تجویز پر آخری مہر لگ گئی ہے ۔
بھٹکل سی ایم سی بنانے کے مجوزہ مسودے کا نوٹی فکیشن 25 اکتوبر کو جاری کیا گیا تھا اور محکمہ شہری ترقیات نے اس تجویز پر اعتراضات داخل کرنے کے لئے ایک مہینے کی مہلت دی گئی تھی ۔
خیال رہے کہ اس بھٹکل ٹی ایم سی کو سی ایم سی بنانے کی تجویز کا اعلان ہوتے ہیں بی جے پی نے پریس کانفرنس کرکے اس کے خلاف اعتراضات جتائے تھے ۔ اس کا کہنا تھا کہ سی ایم سی کے حدود میں صرف مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں کو شامل کیا جا رہا ہے اس لئے وہ اس تجویز کے خلاف ہے ۔ مگر معلوم ہوا ہے یہ اعتراضات صرف بیانات کی حد تک رہے اور پارٹی یا اس کے کسی لیڈر کی جانب سے بھی باضابطہ طور پر کوئی اعتراض داخل نہیں کیا گیا ۔
کیا ہوگا بھٹکل سی ایم سی کا حدود اربعہ :60 ہزار سے زائد آبادی والی بھٹکل ٹی ایم سی کو سی ایم سی کا درجہ دینے کی کوشش 2015 سے چل رہی تھی ۔ اب 25 اکتوبر 2025 کے نوٹی فکیشن پر اعتراضات جتانے کی آخری تاریخ ختم ہونے کے بعد محکمہ شہری ترقیات کی جانب سے 20 نومبر 2025 کو قطعی نوٹی فکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق نو تشکیل شدہ سی ایم سی میں بھٹکل تعلقہ کے مقامی بلدی اداروں ٹی ایم سی، جالی پٹن پنچایت اور ہیبلے گرام پنچایت کو شامل کیا جائے گا اور یہ 'چھوٹا شہر' (منی سٹی) کہلائے گا ۔ اس کا علاقہ 22.67 اسکوائر کلو میٹر پر مشتمل ہوگا ۔
بھٹکل سی ایم سی کے حدود میں جالی گرام کے سروے نمبر 251 کا شمالی مغربی کونے شروع ہونے کی سرحد، وینکٹاپور ندی کا حصہ، سوسگڈی گرام، پٹا نہر، پورورگا اور سوسگڈی گرام کی سرحدوں سنگم، سرابی ندی اور ندی کا دایاں کنارہ، بھٹکل سے گورٹے کو جوڑنے والی سڑک،پورورگا گرام، منڈلی سے آنے والا راستہ، چوتھنی گرام کی سرحد، سرابی ندی کے بائیں کنارے سے آگے جاتے ہوئے سوسگڈی گرام کا حصہ اور وہاں سے جالی گرام جالی گرام کا سرحدی حصہ شامل رہے گا ۔
ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے شہری ترقیات کے وزیر کے نام 12 جنوری 2025 کو جو مراسلہ بھیجا تھا اس میں کہا گیا تھا کہ " 2011 کی مردم شماری کے مطابق بھٹکل میں 32 ہزار، جالی میں 19 ہزار اور ہیبلے گرام پنچایت علاقے میں 19 ہزار لوگ بستے ہیں ۔ فی الحال ان تین علاقوں کو ضم کیا جائے تو یہ آبادی لگ بھگ 75 ہزار سے زیادہ ہو جاتی ہے ۔ اس لئے ان تینوں اداروں کو ملا کر سٹی میونسپل کاونسل تشکیل دینی چاہیے ۔"
اس پس منظر میں بی جے پی کے لیڈروں نے اصرار کے ساتھ کہا تھا کہ بھٹکل سی ایم سی تشکیل دینے پر ہمیں اعتراض نہیں ہے، لیکن بھٹکل ٹی ایم سی کے ساتھ سرحدی طور پر جڑنے والے شیرالی، مٹھلی، منڈلی، ایلوڈی کوور، ماوین کوروے جیسے علاقوں کو بھی بھٹکل سی ایم سی میں شامل کرنا ہوگا ۔" لیکن تجویز کے مسودے پر بی جے پی کی طرف سے ان علاقوں کو شامل کرنے کے بارے میں کوئی تجویز باضابطہ طور پر داخل ہی نہیں ہوئی ۔
اب قطعی نوٹی فکیشن جاری ہونے پر بی جے پی کے ایک لیڈر شریکانت اسارکیری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ماوین کوروے اور مٹھلی سمیت بھٹکل ٹی ایم سی سے ملحقہ قریبی گرام پنچایتوں کو شامل کرنے کے مطالبے کے ساتھ احتجاج کیا تھا ۔ لیکن اقلیتوں کو خوش کرنے کے لئے محدود علاقوں کو سی ایم سی میں شامل کیا گیا ہے ۔