ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: پمپنگ اسٹیشن کی ناکامی اورسرابی ندی کی آلودگی کا شاخسانہ؛ گٹر کا پانی آسارکیری کے کنوؤں میں بھی داخل؛ 25 سے زائد افراد ٹائیفائیڈ سے متاثر

بھٹکل: پمپنگ اسٹیشن کی ناکامی اورسرابی ندی کی آلودگی کا شاخسانہ؛ گٹر کا پانی آسارکیری کے کنوؤں میں بھی داخل؛ 25 سے زائد افراد ٹائیفائیڈ سے متاثر

Wed, 11 Jun 2025 15:19:28    S O News
بھٹکل: پمپنگ اسٹیشن کی ناکامی اورسرابی ندی کی آلودگی کا شاخسانہ؛ گٹر کا پانی آسارکیری کے کنوؤں میں بھی داخل؛  25 سے زائد افراد ٹائیفائیڈ سے متاثر

بھٹکل، 11 جون (ایس او نیوز) بھٹکل کے تاریخی سرابی ندی میں  بار بار گٹر کا گندہ پانی چھوڑے جانے کے سبب جہاں ندی مکمل طور پر آلودہ ہوچکی ہے، وہیں اس ندی کے اطراف واقع علاقوں کے سینکڑوں کنویں بھی اس گندگی کی زد میں آ گئے ہیں۔ کافی سالوں سے غوثیہ اسٹریٹ، قاضیا اسٹریٹ، تکیہ اسٹریٹ، جامعہ اسٹریٹ، صدیق اسٹریٹ، خلیفہ اسٹریٹ اور سلطانی اسٹریٹ کے  عوام اس مسئلہ سے جوج رہے تھے، مگر امسال اسارکیری علاقہ بھی اس بحران میں شامل ہوگیا ہے۔

بارش شروع ہوتے ہی آسارکیری  کے پچاسوں کنووں میں گندہ پانی جمع ہونا شروع ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے نہ صرف پینے کا پانی ناپاک ہو گیا ہے بلکہ آس پاس کے علاقوں میں بھی زیر زمین پانی آلودہ ہو چکا ہے۔ چونکہ مقامی آبادی روزمرہ کے استعمال کے لیے کنووں کے پانی پر انحصار کرتی ہے، اس لیے پانی کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اب تک 25 سے زائد افراد ٹائیفائیڈ میں مبتلا ہو کرسرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں اور مقامی کلینکوں  سے رجوع ہوتے ہوئے اپنا علاج کراہے ہیں۔

مقامی افراد کا الزام ہے کہ نکاسیٔ آب کے ناقص اور غیر سائنسی منصوبوں کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا ہے۔ علاقہ کے ایک سماجی کارکن  موہن  نائک کے مطابق اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو بیماروں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ گھروں میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد اور کئی گھروں میں تین تین افراد ٹائیفائیڈ سے متاثر ہوئے ہیں، جب کہ دیگر امراض جیسے اسہال اور ہیضہ کے کیسس بھی سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا  کہ اس معاملے کو کئی بار میونسپل کونسلروں اور میونسپل حکام کے علم میں لایا گیا، مگر تاحال کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ سابق کونسلر وینکٹیش نائک نے انتظامیہ کی خاموشی پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدام نہ ہوا تو احتجاج کیا جائے گا۔

صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بھٹکل تعلقہ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سویتا کامتھ نے طبی ٹیم کو علاقے میں روانہ کیا، جہاں خون اور بخار کے نمونے لے کر مختلف جانچیں کی گئیں۔ آشا کارکنان اور پانی کے معیار کی جانچ کرنے والی ٹیم بھی سرگرم ہوچکی ہے۔

Click here for report in English

ادھر غوثیہ اسٹریٹ سمیت سرابی ندی کے اطراف کے علاقوں کے کنووں میں گٹر کا پانی داخل ہونے کے بعد، قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کی جانب سے تشکیل دی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے کنوینر انجینئر جیلانی محتشم نے بتایا کہ اس سنگین مسئلے کی جڑ، غوثیہ اسٹریٹ میں واقع پمپنگ اسٹیشن کی ناکامی اور سرابی ندی کی مسلسل آلودگی ہے۔ ان کے مطابق ایک جانب پرانی پائپ لائنوں کو نکال کر ان کی مرمت کرنا ناگزیر ہے، تو دوسری جانب سرابی ندی کی مکمل صفائی، گہرائی میں کھدائی اور گاد کی نکاسی بھی اشد ضروری ہے، کیونکہ یہی آلودہ پانی زیرِ زمین نظام کے ذریعے کنووں میں داخل ہو رہا ہے۔

بھٹکل میونسپل چیف آفیسر وینکٹیش ناوُڈا نے بھی مانا ہے کہ غوثیہ اسٹریٹ میں پمپنگ اسٹیشن کی ناکامی کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا ہے، اور پرانے پائپوں کو بدلنے کی اور مرمت کی ضرورت ہے ۔ ان کے مطابق اس کام کے لئے سرکار کی جانب سے 200 کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ مگر پتہ چلا ہے کہ اس رقم کو نئے علاقوں میں نئی پائپ لائنیں بچھانے میں خرچ کیا جا رہا ہے، جو موجودہ بحران کا ایک بڑا سبب ہے۔

ماہرین اور مقامی باشندوں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ ڈرینیج کے تمام پرانے اور خستہ حال پائپوں کو تبدیل کیا جائے، سرابی ندی کی فوری صفائی کی جائے اور کنووں کی تطہیر کے ساتھ ساتھ متبادل پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ علاقے کو ایک ممکنہ وبائی بحران سے بچایا جا سکے۔


Share: