ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل: آر وی دیشپانڈے کا بیان – اگر میں وزیراعلیٰ ہوتا تو پانچ ضمانتی اسکیمیں نافذ نہ کرتا؛ صرف خواتین کو فائدہ دینے پر بھی کی تنقید، بعد میں کی اپنے بیان کی وضاحت

بھٹکل: آر وی دیشپانڈے کا بیان – اگر میں وزیراعلیٰ ہوتا تو پانچ ضمانتی اسکیمیں نافذ نہ کرتا؛ صرف خواتین کو فائدہ دینے پر بھی کی تنقید، بعد میں کی اپنے بیان کی وضاحت

Mon, 13 Oct 2025 23:33:44    S O News

بھٹکل 13/اکتوبر (ایس او نیوز): سینئر کانگریس لیڈر، تجربہ کار ایم ایل اے اور سابق وزیر آر وی دیشپانڈے نے کہا ہے کہ اگر وہ کرناٹک کے وزیراعلیٰ ہوتے تو وہ سدارامیا حکومت کی جانب سے نافذ کی گئی پانچ ضمانتی اسکیموں کو نافذ نہ کرتے، کیونکہ ان اسکیموں نے ریاست پر مالی بوجھ ڈال دیا ہے اور ترقیاتی رفتار متاثر ہوئی ہے۔

اتوار کو ضلع اُترکنڑا کے ڈانڈیلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہلیال کے آٹھویں مرتبہ منتخب ایم ایل اے دیشپانڈے نے کہا کہ حکومت کی فلاحی اسکیمیں اگرچہ عوام، خصوصاً خواتین کے لیے فائدہ مند ہیں، لیکن ان سے مالی دباؤ اور توازن میں کمی پیدا ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’پانچ ضمانتوں نے ریاست پر مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ ایک طرف یہ عوام کے لیے فائدہ مند ہیں، مگر دوسری طرف حکومت کے لیے اپنے معاملات سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے۔ جب خواتین کو ہر طرح کا فائدہ دیا جا رہا ہے تو مردوں کے لیے کوئی اسکیم نہیں ہے۔‘‘

گرہ لکشمی اسکیم، جس کے تحت گھریلو خواتین سربراہوں کو ہر ماہ دو ہزار روپے دیے جاتے ہیں، اور گرہ جیوتھی اسکیم، جس میں ہر گھرانے کو 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کی جاتی ہے، پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’خدا ہی جانتا ہے سدارامیا کو یہ مشورہ کس نے دیا۔ اگر میں وزیراعلیٰ ہوتا تو میں یہ اسکیمیں نافذ نہ کرتا۔‘‘

شکتی اسکیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے، جو خواتین کو ریاستی بسوں میں مفت سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے، 78 سالہ لیڈر نے کہا، ’’اب بسیں تقریباً صرف خواتین کے لیے رہ گئی ہیں۔ اگر کوئی مرد بس میں چڑھنے کی کوشش کرے تو اس کے لیے جگہ نہیں بچتی۔ خواتین دھارواڑ، بیلگاوی، کلبرگی اور یلّما مندر تک جا رہی ہیں۔ یہ اب مکمل خواتین کی بسیں بن گئی ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ انّا بھاگیہ اسکیم کے تحت ہر بی پی ایل خاندان کے فرد کو ماہانہ دس کلو چاول دیا جا رہا ہے، اور اب حکومت ’’اندرا کِٹ‘‘ دینے کی تیاری کر رہی ہے جس میں تُور دال، خشک ناریل اور کھانے کا تیل شامل ہوگا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا ’’ہمیں بھی معلوم نہیں وہ آگے کیا دینے والے ہیں۔ میں نہیں سمجھ پا رہا ہوں کہ سدارامیا کیا جادو دکھا رہے ہیں۔‘‘

انتظامی اصلاحات کمیشن (Administrative Reforms Commission) کے چیئرمین کی حیثیت سے دیشپانڈے نے کہا کہ ان اسکیموں کے مؤثر نفاذ کے لیے کئی کمیٹیاں بنانی پڑی ہیں، جس کے نتیجے میں ریاست کی ترقیاتی رفتار سست ہوگئی ہے۔

تاہم، بعد میں دیشپانڈے نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ کو ’’غلط سمجھا گیا‘‘۔ انہوں نے کہا، ’’میں ضمانتی اسکیموں کی مخالفت نہیں کر رہا تھا۔ میں سدارامیا کے عوام دوست رویے کی تعریف کر رہا تھا۔ میرا مطلب صرف یہ تھا کہ ایسی اسکیموں کو نافذ کرنے کے لیے مالی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ سدارامیا ایک سچے لیڈر ہیں جو غریبوں کے لیے لڑ رہے ہیں، اور ضمانتیں دے کر اچھی حکومت فراہم کرنا ان کی طاقت ہے۔‘‘

قابلِ ذکر ہے کہ سدارامیا حکومت نے 20 مئی 2023 کو ان پانچ ضمانتی وعدوں کے نفاذ کا اعلان کیا تھا، جن میں گرہ جیوتھی، گرہ لکشمی، انّا بھاگیہ، یُووا نِدھی اور شکتی اسکیمیں شامل ہیں۔ ان اسکیموں پر رواں مالی سال میں مجموعی طور پر 51,034 کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

اگرچہ ان اسکیموں کی عوام بے حد سراہنا کررہےہیں، لیکن حزبِ اختلاف بی جے پی اور جے ڈی ایس کے ساتھ ساتھ بعض کانگریس اراکینِ اسمبلی نے بھی اس پر تشویش ظاہر کی ہے کہ فلاحی وعدوں کی وجہ سے ریاست کی مالی حالت پر دباؤ بڑھا ہے اور ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہوئے ہیں۔

Click here for report in Urdu


Share: