ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل نیشنل ہائی وے توسیع : رنگین کٹے کے پاس درخت اور چبوترا ہٹانے کی تیاری - تحصیلدار نے جاری کیا نوٹس

بھٹکل نیشنل ہائی وے توسیع : رنگین کٹے کے پاس درخت اور چبوترا ہٹانے کی تیاری - تحصیلدار نے جاری کیا نوٹس

Wed, 17 Dec 2025 12:21:49    S O News
بھٹکل نیشنل ہائی وے توسیع : رنگین کٹے کے پاس درخت اور چبوترا ہٹانے کی تیاری - تحصیلدار نے جاری کیا نوٹس

بھٹکل، 17 / دسمبر (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66 کے توسیعی منصوبے کے تحت رنگین کٹے کے پاس رکے ہوئے کام کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں بھٹکل تحصیلدار کے دفتر سے ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اس مقام پر موجود اشوت کے درخت اور چبوترے کو ہٹانے کی کارروائی 24 دسمبر کو انجام دی جائے گی ۔
    
16 دسمبر کو جاری کیے گئے اس نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ ضلع ڈپٹی کمشنر کی طرف سے 27 نومبر کو ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے اور اس میں بھٹکل تعلقہ کے سوسگڑی گرام کے سروے نمبر 604 (رنگین کٹے کے پاس واقع اشوتھ کا درخت اور اس کے چبوترے والی جگہ)  کے مالکان کو مذکورہ زمین تحویل میں دینے کے لئے جاری کردہ نوٹس پر عمل پیرائی نہ کرنے کی وجہ سے خصوصی تحویل اراضی افسران، نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا  ہوناور کے لئے بھٹکل تحصیلدار کو زبردستی مذکورہ جگہ کو تحویل میں لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 
    
تحصیلدار نے اپنی نوٹس میں بتایا ہے کہ اس وجہ سے عوام کو اس بات سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ بھٹکل تعلقہ کے سوسگڑی ہوبلی کے سوسگڑی گرام کے رنگین کٹہ پر موجود اشوتھ درخت کا چبوترا نیشنل ہائی وے کی توسیع کے لئے اب سرکاری تحویل میں لیا گیا ہے۔ ہائی وے کی توسیع کے لئے جلد ہی اس چبوترے کو ہٹانا ضروری ہوگیا ہے۔ اس وجہ سے مذکورہ اشوتھ درخت کا چبوترا ہٹانے سے پہلے کسی بھی قسم کا مذہبی پروگرام یا پوجا وغیرہ کرنا ہو تو متعلقہ افراد یا عوام انفرادی طور پر یا پھر اجتماعی طور پر اسے انجام دینے کے لئے ایک ہفتے کو وقفہ دیا جاتا ہے۔  اس لئے 23 دسمبر 2025 تک دلچسپی رکھنے والے اس مقام پر پوجا، پرارتھنا یا پھر کسی بھی قسم کا مذہبی پروگرام منعقد کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ایسا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا۔ 24 دسمبر 2025 سے مذکورہ زمین کو خصوصی تحویل اراضی افسر کی تحویل میں دیا جائے گا اورمذکورہ اشوتھ درخت کا چبوترا ہٹانے کی کارروائی قانون کے مطابق انجام دی جائے گی۔ 23 دسمبر کے بعد موصول ہونے والی کسی بھی عوامی اپیلوں یا تکرار والی درخواستوں کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ 


Share: