بھٹکل 16 / ستمبر (ایس او نیوز) شہر کے قدیم بس اسٹینڈ کے قریب واقع مچھلی مارکیٹ کے راستے میں آس پاس کے لوگوں کی طرف سے مُبینہ طور پر اپنے گھروں کا کچرا پھینکنے اور پھر بعض افراد کی جانب سے پرانی مچھلی مارکیٹ میں گندگی کا ڈھیر دکھانے کے لئے مارکٹ کے فوٹوز سوشیل میڈیا میں وائرل کرنے پر مچھلی فروش خواتین اور بیوپاریوں نے سخت احتجاج کیا ۔
پیر صبح کچرے کے فوٹو اور پرانی مارکیٹ میں گندگی کی وجہ سے مبینہ طور پر وہاں سے مچھلی نہ خریدنے کی اپیل سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کی خبر معلوم ہوتے ہی مچھلی فروش خواتین اور مچھلی کے بیوپاریوں نے احتجاج کیا اور موقع پر پہنچنے والے ٹاون میونسپل کاونسل کے چیف آفیسر اور دیگر ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ یہاں کچرا پھینکنے اور گندگی پھیلانے کے نام پر پرانی مارکیٹ میں مچھلی فروخت کرنے والوں کو بدنام کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔
مچھلی فروشوں کا کہنا تھا کہ سلطان اسٹریٹ سے پرانی مچھلی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لئے جو کھلا راستہ ہے اس کے آس پاس انہوں نے اپنے خرچ سے گریٹ ڈال کر اس حصے پر صفائی ستھرائی بنائے رکھنے کی کوشش کی ہے مگر آس پاس کے علاقے کے کچھ لوگ یہاں اپنے گھروں کا کچرا پھینک کر چلے جاتے ہیں، پھر اس کے بعد بعض لوگ اس کی ویڈیو ور فوٹوز وائرل کرتے ہیں ۔ مچھلی فروشوں نے وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح گندگی پھیلانے والوں پر ٹی ایم سی کی جانب سے روک لگانے کے اقدامات نہیں کیے گئے تو پھر سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا جائے گا ۔
موقع پر پہنچی ہوئی ہیلتھ آفیسر سوجیا سومن نے وہاں پڑے ہوئے کچرے کے ڈھیر سے کچھ تھیلیوں کو کھلوایا اور اس کے اندر موجود چیزوں کا جائزہ لیا تو اس میں ایک پرائیویٹ اسپتال کے دو بلوں کے علاوہ اردو اسکول اور ہِئر کٹنگ شاپ کے کاغذات برآمد ہوئے ۔ جس کے بعد ہیلتھ آفیسر نے ان لوگوں پر جرمانہ عائد کرنے کی بات کہی اور تمام کچرے کو یہاں سے ہٹاتے ہوئے ٹی ایم سی کی گاڑیوں میں ڈمپنگ شیڈ کی طرف بھیج دیا ۔
چیف آفیسر کو دیا گیا میمورنڈم : اسی تعلق سے منگل صبح مچھلی فروش خواتین اور مچھلی کے بیوپاریوں نے بڑی تعداد میں ٹی ایم سی دفتر کے سامنے پہنچ کر بھٹکل تعلقہ ماہی گیروں اور مچھلی فروشوں کی ایسوسی ایشن کی جانب سے میونسپل چیف آفیسر کو ایک میمورنڈم پیش کیا ۔ جس میں نئی مچھلی مارکیٹ بننے کے بعد پرانی مچھلی مارکیٹ کی صفائی ستھرائی کو موضوع بناتے ہوئے سوشیل میڈیا پر پھیلائے جا رہے منفی پروپگنڈے کی طرف اشارہ کیا گیا اور کل (پیر) صبح کے وقت جو مسئلہ سامنے آیا تھا اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اس کے خلاف پولیس کیس درج کروانے اور قصور وار افراد کے خلاف کارروائی کی مانگ کی گئی ۔
میمورنڈم میں اس بات کی بھی دھمکی دی گئی ہے کہ اگر ٹی ایم سی کی طرف سے کارروائی نہیں کی گئی تو پھر مچھلی فروشوں کی ایسوسی ایشن کی طرف سے ہی پولیس کے پاس معاملہ درج کروایا جائے گا ۔
اس موقع پر اسوسی ایشن کے صدر خواجہ کلائی والا، نائب صدر کلیانی موگیر، محمد ایوب، پانڈو نائک، نذیر احمد و دیگر کئی مچھلی فروش خواتین و غیرہ موجود تھے۔
