نئی دہلی، 29/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی )یوم جمہوریہ 26 جنوری کو پنجاب کے امرتسر میں ہیریٹیج اسٹریٹ پر بابا بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ کو نقصان پہنچایا گیا، جس کے بعد دلت طبقہ کے افراد میں شدید غصہ پایا گیا۔ منگل (28 جنوری) کو ناراض افراد نے پنجاب کے مختلف اضلاع، بشمول ہوشیار پور، جالندھر اور لدھیانہ میں بند کا اعلان کیا۔ پیر (27 جنوری) کو مختلف سماجی گروپوں کی مشترکہ میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بند کے دوران کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔ بازار ایسوسی ایشن نے بھی اسی دن اپنی میٹنگ میں فیصلہ کیا تھا کہ منگل کو تمام بازار بند رکھے جائیں گے۔ ہوشیار پور کے ایس پی سربجیت سنگھ نے اس حوالے سے بتایا کہ ہوشیار پور میں مکمل طور پر بند کا نفاذ کیا گیا ہے۔
واضح ہو کہ امرتسر میں بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمہ کو توڑے جانے کے بعد سے ہی دلت سماج کے اندر کافی ناراضگی دیکھنے کو مل رہی تھی۔ واقعہ کے بعد سے ہی عام آدمی پارٹی بی جے پی اور کانگریس کے نشانے پر آ گئی ہے۔ ایک طرف جہاں بی جے پی نے عام آدمی پارٹی کے قومی کنویز اروند کیجریوال کو پنجاب حکومت کو برخاست کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پیر کو احتجاج کیا تو دوسری جانب کانگریس نے پنجاب حکومت سے اس واقعہ کے لیے ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت سنگھ مان اس واقعہ کے حوالے سے 27 جنوری کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کیا۔ پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’’سری امرتسر صاحب کی ہیریٹیج اسٹریٹ پر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی مورتی توڑنے کا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے اور اس واقعہ کے لیے کسی کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ واقعہ کو انجام دینے والا خواہ کوئی بھی ہو اسے سخت سے سخت سزا ملے گی۔ پنجاب کے بھائی چارے اور اتحاد کو توڑنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے دی جائے گی۔ انتظامیہ کو اس کی تحقیقات اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔‘‘