ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل مخدوم کالونی کی پہاڑی پر ہڈیاں؛ دس بارہ سال پرانی فوٹوز کو وائرل کرکے ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش اور کنڑا صحافی کی بے باک رپورٹنگ

بھٹکل مخدوم کالونی کی پہاڑی پر ہڈیاں؛ دس بارہ سال پرانی فوٹوز کو وائرل کرکے ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش اور کنڑا صحافی کی بے باک رپورٹنگ

Sun, 14 Sep 2025 20:39:08    S O News
بھٹکل مخدوم کالونی کی پہاڑی پر ہڈیاں؛ دس بارہ سال پرانی فوٹوز کو وائرل کرکے ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش اور کنڑا صحافی  کی بے باک رپورٹنگ

بھٹکل 14 ستمبر (وسنت دیواڑیگا/ایس او نیوز): ریاست  کرناٹک کے حساس علاقوں میں شمار ہونے والے بھٹکل میں جھوٹی اور گمراہ کن خبروں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ چند ماہ پہلے ایک خبر وائرل ہوئی تھی کہ بھٹکل میں آوارہ کتے بچوں کو کاٹ رہے ہیں اور لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اس مسیج کے ساتھ ہی  ایک ویڈیو بھی تیزی سے پھیلا جس میں دکھایا گیا کہ بھٹکل کے جالی علاقے میں ایک آوارہ کتے نے بچے کو کاٹ کر زخمی کر دیا۔ اگلے ہی روز یہی تصویر اور رپورٹ بعض کنڑا میڈیا میں بھی شائع ہوئی اور اسے بھٹکل جالی میں پیش آنے والی واردات قرار دیا گیا۔ لیکن جب خبر کی جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ واردات بھٹکل میں نہیں بلکہ رائچور میں پیش آئی تھی۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے۔ کچھ سال پہلے ایک اور ویڈیو وائرل ہوا تھا جس میں ایک جانور کو عمارت کی چھت سے نیچے کودتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اسے بھی بھٹکل کے شمس الدین سرکل کے قریب ایک عمارت سے جوڑ دیا گیا، مگر بعد میں حقیقت سامنے آئی کہ اس واقعہ کا بھٹکل سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ اس طرح کی افواہیں اور جھوٹی خبریں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔ اور اب ایک بار پھر بھٹکل کی مخدوم کالونی کی پہاڑی پر ہڈیوں کے ڈھیر کی خبر نے ماحول کو گرما دیا ہے۔

مخدوم کالونی پہلے دن سے ہی شک و شبہات میں گھرا رہا ہے۔ یاد رہے کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار احمد سدی باپا عرف یاسین اسی علاقے کا رہائشی ہے۔ اسی وجہ سے چند برس قبل ملک کے مختلف نیشنل میڈیا نمائندے اس علاقے کا رخ کرنے لگے تھے۔ اس دوران جب پونے جرمن بیکری بلاسٹ کیس سامنے آیا تو احمد کے بجائے اُس کے بھائی صمد کو ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا اور اُس وقت کے وزیر داخلہ پی۔ چدمبرم نے اعلان کر دیا کہ یہی اصل ملزم ہے۔ لیکن بعد میں حقیقت سامنے آئی کہ صمد کا اس کیس سے کوئی تعلق ہی  نہیں تھا۔ یوں ملک بھر میں شور مچانے والی وہ خبر چند دنوں میں فلاپ ہو گئی۔

جانوروں کی چوری اور ذبح کے معاملات

اب ایک بار پھر جانوروں کی چوری اور ذبح سے متعلق خبروں کی وجہ سے یہی مخدوم کالونی سرخیوں میں ہے۔ کچھ سال قبل بھٹکل پولیس نے سی پی آئی دیواکر کے آنے سے پہلے ہی ایک ایسے گروہ کو گرفتار کیا تھا جو باہر سے آکر بھٹکل  میں بسیرا کئے ہوئے تھے اور جانوروں کی چوری کرتے تھے۔

اگرچہ ایک وقت میں مویشی چور روپوش ہو گئے تھے، مگر کچھ عرصہ بعد پھر بھٹکل میں مویشی چوری کے واقعات بڑھنے لگے۔ حال ہی میں مخدوم کالونی کے عوام نے ایک مویشی چور کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا، لیکن فوری طور پر یہ خبر پھیل گئی کہ ملزم نے تیس ہزار روپے دے کر رہائی حاصل کر لی۔ اس سے قبل بھی اسی طرح کے الزامات سامنے آچکے تھے۔ اب انہی حالات میں مخدوم کالونی کی پہاڑی پر ہڈیوں کے ڈھیر ملنے کی خبر وائرل کی گئی۔

تازہ معاملہ کیا ہے؟

چار پانچ دن پہلے سوشل میڈیا پر یہ خبر وائرل ہوئی کہ سنگھ پریوار تنظیم کے کچھ نوجوان مخدوم کالونی کی پہاڑی پر پہنچے اور وہاں ہڈیوں کے ڈھیر دیکھے گئے۔ نوجوانوں نے اپنی سیلفیاں، کچھ GPS فوٹوز اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈال دیں۔ ساتھ ہی افواہ اڑائی گئی کہ یہاں بے شمار  جانوروں کے ذبح کے نشانات ملے ہیں۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ جو ہڈیوں کے ڈھیر کی تصاویر وائرل کی گئیں، وہ تقریباً بارہ سال پرانی تھیں۔ ان پرانی تصاویر کو نئی GPS ویڈیوز کے ساتھ ملا کر ایک کہانی گھڑ لی گئی کہ چند دنوں میں یہاں سینکڑوں جانور ذبح کیے گئے ہیں۔ جب یہ حقیقت سامنے آئی کہ تصاویر پرانی ہیں، تو غلطی کو چھپانے کے لیے بدھ کی شام ایک ٹینک کے اوپر سے نئی ویڈیوز لی گئیں اور GPS فوٹیج جاری کی گئی۔

پولیس کے ساتھ دوبارہ چھاپہ

جمعرات کو سنگھ پریوار کے کارکنان پولیس انسپکٹر دیواکر اور دیگر افسران کے ساتھ دوبارہ اسی مقام پر پہنچے۔ جنگلاتی علاقے میں ایک ٹینک کا سامنے کا حصہ  توڑ کر اندر سے کچھ ہڈیاں برآمد کی گئیں۔ پھر ان کی تصاویر اور GPS ویڈیوز پھیلائی گئیں اور دعویٰ کیا گیا کہ یہی وہ ہڈیاں ہیں جن کے بارے میں پہلے کہا جا رہا تھا۔ مگر اصل سوال برقرار رہا: پہاڑی پر دکھائے گئے بڑے ڈھیر کہاں گئے؟

اگلے دن کچھ میڈیا اداروں نے پھر وہی پرانی تصویریں شائع کر دیں۔ اس دوران ایسے افراد کو دھمکیاں بھی دی گئیں جنہوں نے یہ واضح کیا تھا کہ تصاویر پرانی ہیں اور ماحول خراب کرنے کے لیے انہیں وائرل کیا گیا ہے۔ بعض  رپورٹروں کو گالیاں دی گئیں اور انہیں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکانے کے مترادف قرار دیا گیا۔

عوامی شکایات اور پولیس کی تفتیش

اس جھوٹے پروپیگنڈے کے خلاف مخدوم کالونی کے عوام نے اعلیٰ پولیس افسران کو شکایت دی ہے۔ بھٹکل میونسپلٹی نے بھی الگ کیس درج کیا ہے۔ پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے، لیکن پرانی تصاویر اور ویڈیوز کے ساتھ نیا پروپیگنڈا ابھی تک جاری ہے۔

عوامی سوالات

عوام میں فطری طور پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں: اگر واقعی پہاڑی پر ہڈیوں کے ڈھیر تھے تو احتجاج وہیں کیوں نہیں کیا گیا؟ پولیس کو فوری طور پر اطلاع کیوں نہیں دی گئی؟ جب نوجوانوں نے اپنی سیلفیاں لیں تو ہڈیوں کے سامنے کیوں تصویر نہیں لی گئی؟ یہ بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر ہڈیاں واقعی وہاں موجود تھیں تو پولیس اور میونسپلٹی نے انہیں فوراً ہٹا کر ثبوت کیوں مٹائے؟ اور اگر یہ سچ ہے تو جن افسران نے ایسا کیا، انہیں ابھی تک معطل کیوں نہیں کیا گیا؟

اب ٹینک سے ملنے والی ہڈیوں کی تصاویر اور ویڈیوز کو GPS کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ وہی ہڈیاں ہیں۔ حالانکہ اصل تنازعہ پہاڑی پر دکھائے گئے بڑے ڈھیر کی تصاویر پر تھا، نہ کہ ٹینک میں موجود چند ہڈیوں پر۔ سچائی یہ ہے کہ مخدوم کالونی کی پہاڑی پر جانوروں کے ذبح کی کوئی تازہ کارروائی ثابت نہیں ہوئی ہے۔

بھٹکل میں مویشی چوری کے کئی معاملات درج ہو چکے ہیں، مگر پولیس کو مجرموں سے دوستانہ رویہ نہیں رکھنا چاہیے۔ چھاپے کسی ریٹ فکسنگ پر مبنی نہیں ہونے چاہئیں۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ پولیس جھوٹے پروپیگنڈے اور پرانی تصاویر کی بنیاد پر ماحول خراب کرنے والوں کے ساتھ ہاتھ نہ ملائے بلکہ سچائی سامنے لائے اور امن قائم رکھے۔

یہ رپورٹ بھٹکل کے بے باک صحافی وسنت دیواڑیگا کی لکھی گئی ہے اور اُترکنڑا کے معروف کنڑا روزنامہ کراولی منجاو میں شائع ہوئی ہے۔ اسی رپورٹ کا اُردو ترجمہ یہاں پیش کیا گیا ہے۔ (ادارہ)


Share: