ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بی جے پی کا مقابلہ کانگریس کو کمزور کیے بغیر ہی ممکن: اجے ماکن

بی جے پی کا مقابلہ کانگریس کو کمزور کیے بغیر ہی ممکن: اجے ماکن

Sun, 19 Jan 2025 10:43:21    S.O. News Service

نئی دہلی ، 19/ جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی)سینئر کانگریس رہنما اجے ماکن نے 18 جنوری کو کہا کہ قومی سیاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کے لیے اپوزیشن کا متحد ہونا ضروری ہے، اور کانگریس کو کمزور کرکے یہ مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ دہلی میں کانگریس کے نئے ہیڈکوارٹر پر اپنی پہلی پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ عام آدمی پارٹی (عاپ) کی سیاست سے بی جے پی کو فائدہ ہوتا ہے اور اروند کیجریوال کی قیادت میں دہلی میں عاپ کی ترقی نے بی جے پی کے لیے راستہ ہموار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ماضی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "میں نے کیجریوال کو 'ملک مخالف' کہا تھا، اور آج بھی میں اپنے اس مؤقف پر قائم ہوں۔" ماکن نے واضح کیا کہ ان کی یہ رائے کسی ذاتی عناد پر مبنی نہیں بلکہ زمینی حقائق پر مبنی ہے۔ اجے ماکن دہلی کی سیاست کا ایک نمایاں چہرہ ہیں، جو کئی بار اسمبلی اور پارلیمنٹ کے رکن رہ چکے ہیں۔

ماکن نے کہا کہ 2013 میں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کو کانگریس کی حمایت اور 2024 میں کیجریوال کی قیادت والی پارٹی کے ساتھ اس کے اتحاد کی وجہ سے دہلی کے لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ "جب دہلی کے لوگوں کو نقصان ہوا تو بی جے پی کو اس کا فائدہ ہوا۔" اجے ماکن نے مزید  کہا، "میں یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ کانگریس کو 2013 میں عام آدمی پارٹی کی حمایت نہیں کرنی چاہئے تھی اور نہ ہی 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لئے کوئی اتحاد ہونا چاہئے تھا۔ لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے،"

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا کانگریس مستقبل میں عآپ کے ساتھ اتحاد کرے گی، ماکن نے کہا، "مجھے لگتا ہے کہ دہلی میں کیجریوال کو فروغ دینے سے بی جے پی کو مدد ملتی ہے۔ بی جے پی سے لڑنے کے لیے کانگریس کے پاس مضبوط قومی بنیاد ہونا انتہائی ضروری ہے۔ " انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر کانگریس جیسی قومی پارٹی قومی سطح پر مضبوط نہیں ہوگی تو بی جے پی کے خلاف لڑائی مشکل ہو جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس کو کمزور کرکے بی جے پی کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔

دہلی کو سیاسی طور پر ایک اہم ریاست قرار دیتے ہوئے ماکن نے کہا کہ یہ سب جانتے ہیں کہ راجدھانی میں جو بھی پارٹی لوک سبھا کی  سیٹیں جیتتی ہے، وہ مرکز میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ "اے اے پی دہلی میں بی جے پی کے خلاف لڑنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے۔"

ماکن نے کہا کہ کانگریس ہریانہ اور دہلی دونوں میں عام آدمی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتی ہے۔ لیکن جیل سے ضمانت پر باہر آنے کے فوراً بعد، کجریوال نے خود اعلان کیا کہ ان کی پارٹی ہریانہ کی تمام 90 اسمبلی سیٹوں پر الیکشن لڑے گی، جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اتحاد پر بات چیت کے ابتدائی مراحل میں تھے۔" انہوں نے کہا، "جہاں تک دہلی کا تعلق ہے، کجریوال نے خود لوک سبھا انتخابات کے فوراً بعد اعلان کیا تھا کہ وہ دہلی کے انتخابات اکیلے لڑیں گے۔"

ماکن نے کہا کہ جب کانگریس دہلی میں اقتدار میں تھی، جس کی قیادت  وزیر اعلی مرحوم شیلا دکشت کررہی تھیں، پارٹی نے دہلی کی تمام سات لوک سبھا سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور یہاں بی جے پی کو شکست دی تھی۔ انہوں نے کہا، "انہیں(بی جے پی) دہلی میں روک کر، ہم نے انہیں مرکز میں اقتدار میں آنے سے بھی روک دیا کیونکہ جو بھی دہلی میں لوک سبھا کی سیٹیں جیتتا ہے وہ قومی سطح پر حکومت بناتا ہے۔" ماکن نے سوال کیا کہ “لیکن جب سے عام آدمی پارٹی دہلی میں اقتدار میں آئی ہے، حالات بدل گئے ہیں۔ بی جے پی مرکز میں حکومت بنا رہی ہے کیونکہ اس نے تمام سات لوک سبھا سیٹیں جیت لی ہیں - پھر بی جے پی کے ساتھ کون ہے؟”


Share: