نئی دہلی، 11 مارچ (ایس او نیوز) وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں ملک کے مختلف شہروں میں جاری احتجاج کے باوجود مودی حکومت کے سخت مؤقف کو دیکھتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) نے 17 مارچ کو دہلی کے جنتر منتر پر زبردست احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دھرنے میں مسلمانوں سمیت انصاف پسند عوام سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ اس متنازعہ بل کو واپس لے۔
پروگرام کی تفصیلات:
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر قاسم رسول الیاس نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا کہ دھرنا صبح 10 بجے شروع ہوگا اور دوپہر 2 بجے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے دہلی اور قرب و جوار کے عوام سے وقت کی پابندی کا خاص خیال رکھنے کی درخواست کی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور جنرل سیکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے خصوصی طور پر ہولی کے تہوار کے پیش نظر شرکاء سے اپیل کی ہے کہ وہ دن کے اوقات میں ہی اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتجاج مکمل طور پر پُرامن اور آئینی دائرے میں رہے گا، شرکاء کو نعرے بازی سے گریز کرنے اور نظم و ضبط کا مکمل خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا، "یہ دھرنا حکومت کے اڑیل رویے کے خلاف اور وقف املاک کو بچانے کے لیے ایک جمہوری احتجاج ہے۔ مسلمانوں کا یہ قومی فریضہ ہے کہ وہ اس میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہو کر اپنی ناراضگی کا اظہار کریں۔"
ملی و سیاسی جماعتوں کی حمایت:
اس احتجاج کو مختلف ملی اور سماجی تنظیموں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ جماعت اسلامی ہند پہلے ہی اپنی حمایت کا اعلان کر چکی ہے، جبکہ انڈین مسلم فار سول رائٹس (IMCR) نے بھی اس دھرنے کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعلان کیا ہے۔
IMCR کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر اعظم بیگ نے بتایا کہ ملک کی تمام انصاف پسند، جمہوریت پسند اور سیکولر جماعتوں کے رہنما بھی اس دھرنے میں شرکت کریں گے۔ دہلی کے نظام الدین میں IMCR کے مرکزی دفتر میں ایک اہم میٹنگ منعقد کی گئی، جس میں کئی نامور شخصیات نے شرکت کی، جن میں سابق وزیر قانون اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صدر سلمان خورشید، پارلیمنٹ اور جے پی سی کے رکن محب اللہ ندوی، سی پی آئی کے سیکریٹری جنرل عزیز پاشا، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر مولانا عبید اللہ اعظمی، پٹنہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس اقبال احمد، مشہور سماجی کارکن محمد ندیم، سوشل ایکٹیوسٹ صفورہ زرگر، مجلس مشاورت دہلی کے صدر ڈاکٹر ادریس قریشی شامل ہیں۔
میٹنگ میں وقف ترمیمی بل کو مکمل طور پر مسترد کرنے، آئینی حقوق پر ہونے والے حملے، اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی ناانصافی پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ تمام شرکاء نے اتفاق کیا کہ اس دھرنے کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ تمام ریاستوں سے ملی تنظیموں کے نمائندوں کو دھرنے میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔
رمضان المبارک کے پیش نظر اہم ہدایات:
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ رمضان المبارک کے دوران سفر کی مشکلات ضرور ہوں گی، لیکن یہ دھرنا انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کے نتائج طویل مدتی ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی امید ظاہر کی گئی کہ تمام ملی و سیکولر جماعتیں بڑی تعداد میں اس احتجاج میں شریک ہوں گی۔
سمجھا جارہا ہے کہ یہ احتجاجی دھرنا مسلمانوں اور دیگر انصاف پسند طبقات کے لیے حکومت کو یہ پیغام دینے کا موقع ہے کہ وقف املاک کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ AIMPLB نے تمام مسلمانوں اور دیگر برادران وطن سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دھرنے میں بھرپور شرکت کریں تاکہ حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور متنازعہ بل کو واپس لینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔