نئی دہلی ، 16/جنوری (ایس او نیوز /ایجنسی)وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) نے محکمۂ ٹیلی کام (ڈی او ٹی) کو یہ ہدایت دی ہے کہ نئے موبائل کنکشن کے اجرا کے لیے بایومیٹرک تصدیق کو ضروری قرار دیا جائے۔ اس فیصلے کا مقصد جعلی دستاویزات کی بنیاد پر جاری ہونے والے سم کارڈز کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔ جعلی سم کارڈز کا بڑھتا ہوا استعمال سائبر جرائم اور مالی دھوکہ دہی کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے یہ اقدام ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پہلے صارفین مختلف سرکاری شناختی کارڈز جیسے ووٹر آئی ڈی یا پاسپورٹ کا استعمال کر کے سِم کارڈ خرید سکتے تھے، مگر اب نئے قواعد کے مطابق، صرف آدھار سے بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے ہی کنکشن فعال کیا جائے گا۔ اب کوئی بھی ریٹیلر بایومیٹرک تصدیق کے بغیر سِم کارڈ فروخت نہیں کر سکے گا، اور اس اصول کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
ٹیلی کام شعبے کی حالیہ جائزہ میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا جس میں یہ انکشاف ہوا کہ متعدد جرائم میں جعلی سِم کارڈز کا کردار ہے۔ تفتیش میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں ایک ہی ڈیوائس سے کئی سِم کارڈز جڑے ہوئے تھے، جو کہ قواعد کی سنگین خلاف ورزی ہے اور سائبر جرائم کو فروغ دیتا ہے۔
وزیر اعظم کے دفتر نے ٹیلی کام ڈپارٹمنٹ کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر ان جرائم میں ملوث افراد کی شناخت اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان ہدایات کے مطابق، جعلی دستاویزات کے ذریعے سِم کارڈز جاری کرنے والے فروخت کنندگان کو بھی سخت کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔