ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / 50ہزار سے زائد اساتذہ کو خصوصی تربیت دی جائے گی، یوم اساتذہ کے موقع پر وزیراعلیٰ کا خطاب

50ہزار سے زائد اساتذہ کو خصوصی تربیت دی جائے گی، یوم اساتذہ کے موقع پر وزیراعلیٰ کا خطاب

Wed, 06 Sep 2017 10:37:22    S.O. News Service

بنگلورو،5/ستمبر(ایس او نیوز) اساتذہ کی پیشہ وارانہ ترقی کے مقصد کے تحت محکمہ تعلیمات عامہ کی جانب سے’’ گروچیتنا‘‘ پروگرام کا وزیراعلیٰ سدارامیا نے  ’’یوم اساتذہ‘‘ کے موقع پر آغاز کیا۔ ڈاکٹر سرواپلی رادھا کرشنا کے یوم پیدائش کے موقع پر ریاستی سطح کی ’’یوم اساتذہ‘‘ تقریب کا افتتاح کرنے کے بعد وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گروچیتنا پروگرام کے تحت50ہزار سے زائد اساتذہ کو10؍روزہ تربیت دی جائے گی اور اساتذہ کو اپنے پسندیدہ سبجکیٹ منتخب کرنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ 10روزہ تربیتی پروگرام اساتذہ کے لئے جدید معلومات حاصل کرنے اور تدریسی معیارمیں بہتری لانے کے لئے کارآمد ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہر ایک معلم کو چاہئے کہ مسلسل جدید معلومات حاصل کرنے میں لگے رہیں اور ایک معلم کے لئے اسی وقت اپنے طالب علم کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ممکن ہے جب وہ خود اپنے آپ کو ایک طالب علم تصور کرے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے کردار کا بھی طلبا پر گہرا اثر پڑتا ہے۔اور ایک صحت مند معاشرے کی تعمیر کے لئے نوجوانوں کی اعلیٰ ٹولی تیار کرنے کی ذمہ داری اساتذہ پر عائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک اور ریاست کی ترقی اساتذہ سے ممکن ہے۔ طلبا کی شخصیت سازی اب بے حد ضروری ہے اس پر زیادہ توجہ دینے اساتذہ برادری کو تلقین کی۔ سدارامیا نے بتایا کہ حکومت نے کنڑا کو میڈیم لانگویج بنایاہے، ساتھ ساتھ پہلی جماعت سے ہی انگریزی سیکھنے کا موقع بھی فراہم کیاہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کنڑا میڈیم کو نظر انداز کیاجائے۔ سرکاری اسکولوں کو بند کئے جانے کے چند افراد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے سرکاری اسکولوں میں 48؍لاکھ بچے امدادی اسکولوں میں 12؍لاکھ بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری اسکولوں کے لئے درکار ہرطرح کی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ معیاری تعلیم کو اولین ترجیح دی ہے۔ اس کے علاوہ طلبا کے لئے بھی ہر طرح کی سہولتیں فراہم کررہی ہے۔ اساتذہ کو چاہئے کہ وہ سرکاری اسکولوں میں طلبا کی تعداد میں اضافہ پر بھی اپنی دلچسپی دکھائیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ معلم کو چاہئے کہ وہ طلبا کو بہتر شہری بناتے ہوتے اپنے فریضہ کو بخوبی انجام دیں۔ اساتذہ صرف اساتذہ بن کر اپنی ڈیوٹی انجام نہ دیں بلکہ ایک طالب علم بن کر دوستانہ ماحول میں طلبا کی صحیح رہنمائی کریں۔ ایسے اساتذہ معاشرے کے لئے مشعل راہ ہواکرتے ہیں اور کافی دیر تک ان کی خدمات کو یادرکھاجائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اپنی پڑھائی کے دنوں کی یاد تازہ کرتے ہوئے اپنے اساتذہ راجپا اور ایشورچار کو یادکرتے ہوئے بتایا کہ اگر یہ دونوں استاد نہ ہوتے تو آج وہ اس مقام پر ہرگز نہ ہوئے۔ انہوں نے پہلی تا چوتھی جماعت میں داخلہ لینے کے باوجود کھیل کود میں وقت ضائع کیا۔ ٹیچر راجپا نے انہیں5ویں جماعت میں زبردستی داخلہ دلایا اس کے بعد ہائی اسکول سطح پر ایشورچار نامی ان کے استاد نے انہیں صحیح رہنمائی کرتے ہوئے اس قابل بنانے میں اہم کردار نبھایا ، ان کی اس خدمات کو وہ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ قبل ازیں اپنی استقبالیہ تقریر میں ریاستی وزیر برائے پرائمری وسکینڈری تعلیم اوقاف واقلیتی بہبود تنویر سیٹھ نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری کے لئے حکومت نے ضروری اقدامات کئے ہیں۔ریاست بھر میں جہاں 1.85 لاکھ اساتذہ کی ضرورت ہے وہیں 1.67 لاکھ اساتذہ اپنی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ10ہزار اساتذہ کی تقرری کے لئے نوٹی فکیشن جاری کیا گیا ہے۔ امبیڈکر بھون میں منعقد تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ بہترین اساتذہ کے طورپر منتخب معلمین کی اسکولوں کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپئے کا فنڈ جاری کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بہترین ٹیچر کا ایوارڈ حاصل کرنے والے اساتذہ کی اسکولوں کے لئے لائبریری فراہم کرنے کا سلسلہ چلا آرہاتھا۔ لیکن اکثر اسکولوں میں لائبریریاں موجود رہنے کی وجہ سے اب آئندہ ڈھائی لاکھ روپئے کا فنڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ یہ فنڈ کمپیوٹرس کی خریدی، اسکول کی ترقی سمیت دیگر پروگراموں کے لئے استعمال کیاجائے گا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ ریاست میں گزشتہ سال 7900 پرائمری اساتذہ کی تقرری عمل میں لائی گئی تھی۔ جاریہ سال مزید10؍ہزار اساتذہ کی تقرری کے لئے نو ٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اساتذہ کی تقرری کے عمل میں پوری ایمانداری کے ساتھ اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اساتذہ میں تدریسی معیار میں اضافہ کے مقصد سے گروچیتنا پروگرام شروع کی ا گیاہے۔ جاریہ سال 50ہزار طلبا کو تربیت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں موجود 23ہزار اسکولوں میں سے3500 اسکولس ایسے ہیں جہاں9 ویں اوردسویں جماعت چل رہی ہے ۔ ان اسکولوں میں آٹھویں جماعت شروع کرنا ہے۔ ایک مرتبہ ان اسکولوں میں داخلہ لینے کے بعد پی یو سی سال دوم تک تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔اس موقع پر رام چندرا گوڈان رکن کونسل نے بھی خطاب کیا ۔ تقریب کے دوران گروچیتنا کے لوگو اور ویب سائٹ کااجراء بھی عمل میں لایاگیا۔ اس پروگرام میں کولار ضلع ملباگل سرکاری گرلس پی یو کالج (ہائی اسکول شعبہ) کے اسسٹنٹ ٹیچر انوارالحسن، ٹمکور تعلق کے ہائی اسکول ٹیچر رضوان باشاہ صاحب، چکبالاپور ضلع،گوری بندنور تعلق کی ہائی اسکول ٹیچر نور اللہ صاحب، بھٹکل تعلق گورنمنٹ اردو ہائر پرائمری اسکول کی ہیڈ ماسٹر،نورجہاں، ایچ شیخ سمیت 41 مختلف اسکولس کے اساتذہ کو بہترین ٹیچر ایوارڈسے نوازاگیا۔ اس موقع پر بنگلور ترقیاتی وزیر کے جے جارج ،رکن کونسل شرونا، بنگلور شہری ضلع کے ڈپٹی کمشنر وی شنکر،محکمہ تعلیمات عامہ کے پرنسپل سکریٹری، اجئے سیٹھ،کمشنر سوجنیا، ایس ایس اے کے پراجکٹ ڈائرکٹر ڈاکٹر پی سی جعفر سمیت دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔


Share: