نئی دہلی، 9/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) عام انتخابات کے ذریعہ رائے دہندگان نے ۱۸؍ویں لوک سبھا کیلئے اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔۵۴۳؍ میں سے ۵۳۶؍ اراکین پارلیمان ۴۱؍ پارٹیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جبکہ ۷؍ آزاد رکن پارلیمان کے طور پر منتخب ہوئے ہیں۔ ملک کی ٹاپ ۱۰؍ پارٹیوں کے حصے میں ۴۷۹؍ ایم پی آئے ہیں، جبکہ ۳۱؍ پارٹیوں کے صرف ۵۷؍ امیدوا رہی منتخب ہوپائے ہیں۔ اس بار لوک سبھاپہنچنے والوں میں سب سے سینئر ایم پی مدھیہ پردیش کے ٹیکم گڑھ کے بی جے پی رکن پارلیمان وریندر کمار کھٹیک ہیں۔ وہ لگاتار آٹھویں بار لوک سبھا انتخاب جیتنے والےاکلوتے ایم پی ہیں۔ اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ۵۴۳؍ میں سے ۲۸۰؍ ایم پی ایسے ہیں جو پہلی بار ایوان زیریں میں پہنچے ہیں۔ جبکہ ۱۱۶؍ نومنتخب ایم پی دوسری بار، ۷۴؍ ایم پی تیسری، ۳۵؍ ایم پی چوتھی بار ، ۱۹؍ایم پی پانچویں بار،۱۰؍ایم پی چھٹی بار ، ۷؍ایم پی ساتویں بار اور ایک ایم پی آٹھویں بار لوک سبھا پہنچے ہیں۔نومنتخب اراکین پارلیمان میں ۱۶؍ایسے ہیں جو پہلے سے ایوان بالا (راجیہ سبھا) کے رکن رہ چکے ہیں۔ جبکہ ۲۶۲؍ پہلے بھی لوک سبھا کا حصہ رہ چکے ہیں۔ یعنی ۴۰؍ فیصد ایم پی پھر سے منتخب ہوئے ہیں۔ ۲۰۱۹ء میں ۱۷؍ویں لوک سبھا میں ۳۶؍ پارٹیوں کے نمائندے منتخب ہوکر لوک سبھا پہنچے تھے۔
۶۴؍فیصد(۳۴۶) سیٹیں ایسی سیاسی پارٹیوں کو ملی ہیں جو قومی پارٹیوں کا درجہ رکھتی ہیں جبکہ ۳۳؍ فیصد (۱۷۹) ریاستی درجہ رکھنے والی پارٹیوں کو ملی ہیں۔ صرف ۱۱؍ سیٹیں غیر تسلیم شدہ پارٹیوں کو ملی ہیں۔ نومنتخب اراکین پارلیمان میں صرف ایک ایم پی ایسے ہیں جو دو سیٹوں سے ایک ساتھ کامیاب ہوئے ہیں۔ آٹھ ایم پیز کو دوسرے پارلیمانی حلقوں سے جیت ملی ہے۔ ۹؍ ایم پی ایسے ہیںجو پارٹی بدل کر ایم پی بنے ہیں جبکہ آٹھ رکن پارلیمان ایسے ہیں جو اپنی پارٹی کو توڑ کر نئی پارٹی سے ایم پی بنے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے ۵۳؍ وزراء نے الیکشن لڑا جن میں سے ۳۵؍ جیت حاصل کرکے اور ۱۱؍ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
صرف ۷؍ پارٹیاں ایسی ہیں جن کے ۱۰؍ یا اس سے زائد امیدوار رکن پارلیمان منتخب ہوئے ہیں۔ ان ۷؍ پارٹیوں کے حصے میں ۴۵۵؍ اراکین پارلیمان آئے ہیں جبکہ بقیہ ۳۴؍ پارٹیوں کے حصے میں ۸۱؍ سیٹیں آئی ہیں۔ ۱۷؍ پارٹیاں ایسی ہیں جن کے صرف ایک ایک ایم پی ہی منتخب ہوپائے ہیں۔ ٹاپ ۱۰؍ پارٹیوں میں بی جے پی ۲۴۰، کانگریس کے۹۹، سماجوادی پارٹی کے ۳۷، ترنمول کانگریس کے ۲۹، دراوڑ منیتر کشگم(ڈی ایم کے)۲۲، تیلگو دیشم پارٹی کے ۱۶، جنتا دل یونائٹیڈ کے ۱۲، شیوسینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے کے ۹، این سی پی سماجوادی پارٹی کے ۸، شیوسینا(شندے) کے ۷؍امیدوار الیکشن جیتے ہیں۔ ان پارٹیوں کے اراکین پارلیمان کی تعداد ۴۷۹؍ ہے۔ ان میں ۲۰۴؍ انڈیا اتحاد کے ہیں جبکہ ۲۷۵؍ این ڈی اے اتحاد کے ہیں۔
۱۸؍ویں لوک سبھا کیلئے منتخب ہونیوالے اراکین پارلیمان کی اوسط عمر ۵۶؍سال ہے جبکہ ۲۰۱۹ء میں منتخب ہونیوالی ۱۷؍ویں لوک سبھا کے ایم پیز کی اوسط عمر ۵۹؍ تھی۔ سماجوادی پارٹی کے پشپیندر سروج اور پریا سروج ۲۵-۲۵؍سال ،سب سے کم عمر ایم پی بنے ہیں۔ جبکہ ڈی ایم کے ۸۲؍ سالہ ٹی آر بالو سب سے عمر دراز ایم پی ہیں۔ حالانکہ صرف ۱۱؍ فیصد ایم پی ہی ایسے ہیں جو ۴۰؍ سال یا اس سے کم عمر کے ہیں۔ ۳۸؍ فیصد ایم پی کی عمریں ۴۱؍ سے ۵۵؍سال کے درمیان ہے۔ ۵۲؍ فیصد ۵۵؍سال سے زائد عمر کے ہیں۔ اس بار ۳؍ ایم پی ایسے ہیں جن کی عمر ۲۵؍ سال ہے، جو رکن پارلیمان کے منتخب ہونے کیلئے کم ازکم عمر کی حد ہے۔
اس بار منتخب ہونےو الی ۱۶؍ فیصد خواتین رکن پارلیمان کی عمر ۴۰؍ سال سے کم ہے۔ ۳۰؍خواتین ایم پی ایک بار پھر لوک سبھا کیلئے منتخب ہوئی ہیں۔ اس بار ۷۴؍ خواتین ایم پیز نے الیکشن جیتا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں ۱۷؍ویں لوک سبھا میں یہ تعداد ۷۸؍ تھی۔ پچھلی لوک سبھا نے خواتین ریزرویشن کا جو قانون بنایا ہے اس کے حساب سے ۳۳؍ فیصد یعنی ۱۸۰؍ سیٹیں خواتین کو ملنی چاہئے، لیکن فی الحال ۱۴؍فیصد سیٹیں ہی خواتین ایم پیز کو ملی ہیں۔