نئی دہلی، 11/مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)دنیا کے 20 انتہائی آلودہ شہروں کی تازہ فہرست میں ہندوستانی شہروں کا غلبہ دکھائی دے رہا ہے، جس میں اکیلے 13 شہر شامل ہیں۔ اس فہرست میں سب سے زیادہ آلودگی میگھالیہ کے برنی ہاٹ کو ظاہر کرتی ہے۔ آئی کیو ایئر کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، دہلی دنیا کی سب سے آلودہ راجدھانی کے طور پر نمایاں ہے۔ ملکوں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ہندوستان دنیا کا پانچواں سب سے آلودہ ملک قرار پایا ہے، حالانکہ 2023 میں اسے تیسرا درجہ حاصل تھا، جس سے آلودگی میں معمولی کمی کا پتہ چلتا ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں پی ایم 2.5 ذرات کی کثافت میں تقریباً 7 فیصد کمی آئی ہے اور ٹاپ 10 آلودہ شہروں میں سے 6 شہر ہندوستانی شمار کیے گئے ہیں۔
ہندوستان کے جن 13 شہروں کو سب سے آلودہ مانا گیا ہے ان میں پنجاب سے لے کر میگھالیہ تک کے شہر ہیں۔ اس فہرست میں برنی ہاٹ پہلے نمبر پر ہے تو وہیں دہلی دوسرے مقام پر۔ اس کے علاوہ پنجاب کا ملّان پور تیسرے مقام پر ہے۔ چوتھے پر فرید آباد ہے۔ پھر غازی آباد کے لونی، نئی دہلی، گرو گرام، گنگا نگر، گریٹر نوئیڈا، بھیواڑی، مظفر نگر، ہنومان گڑھ اور نوئیڈا کا نمبر آتا ہے۔ کُل ملا کر ہندوستان کے 35 فیصد شہر ایسے ہیں جہاں پی ایم 2.5 کا لیول ڈبلیو ایچ او کی طرف سے تیار فہرست سے 10 گنا زیادہ ہے۔ عالمی صحت تنظیم کی لمٹ 5 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں فضائی آلودگی لگاتار تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے اور یہ ایک بڑا صحت خطرہ بھی ہے۔ اس سے ہندوستان کے لوگوں کی زندگی کی عمر میں اوسطاً 5.2 سال کی کمی آ رہی ہے۔ لینسیٹ ہیلتھ اسٹڈی کے مطابق 2009 سے 2019 تک ہونے والی 15 لاکھ اموات ایسی تھیں جن کی ایک وجہ ان کا پی ایم 2.5 آلودگی کے زیادہ رابطے میں رہنا تھا۔
پی ایم 2.5 کا مطلب ہوا میں پھیلے ان آلودگی والے ذرات سے ہوتا ہے جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے سانس کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ کئی مرتبہ دل کے امراض ہوتے ہیں اور کینسر تک کی وجہ بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں، صنعتی اخراج اور فصلوں اور لکڑیوں کو جلانا فضائی آلودگی کے اہم عوامل ہیں۔