نئی دہلی،6؍ستمبر(ایس او نیوز) آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسد الدین اویسی نے ہند و چین سرحدی تنازعہ کے حوالہ سے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ راج ناتھ سنگھ نے چین کے وزیر دفاع سے ملاقات کی، اس پر چین کا بیان تو آگیا ہے لیکن مودی حکومت کی طرف سے تاحال کوئی بیان نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید وزیر اعظم اپنے شاہی باغ میں مور کے ساتھ کھیلنے میں مصروف رہے ہوں گے، اس لئے بیان نہیں آیا ہوگا۔
اویسی نے کہا کہ یہ ملک جاننا چاہتا ہے کہ ہمارے وزیر دفاع نے چین کے وزیر دفاع سے کیا کہا! چینی فوج جو یہاں گھس کر بیٹھی ہے، اس پر انہوں نے سوال اُٹھاتے ہوئے پوچھا کہ انہوں نے ہمارے فوجیوں کو مارا ہے، چین ہماری سرزمین پر قبضہ کر کے بیٹھا ہے لیکن حکومت اس کے بارے میں بات کیوں نہیں کرنا چاہتی ؟
اسدالدین اویسی نے کہا کہ ماسکو میں دوطرفہ بات چیت میں چینی وزیر دفاع کے بیان کے 8 گھنٹے بعد بھی ہماری حکومت کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ کیا ہمارے وزیر اعظم اپنے شاہی باغ میں مور کے ساتھ کھیلنے میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کے پاس لداخ میں 1000 مربع کلومیٹر میں چین کے قبضے کے بارے میں بات کرنے کا وقت نہیں ہے؟ اویسی نے اپنے ٹویٹ میں راجناتھ سنگھ کو بھی ٹیگ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارتی وفد نے چینی فوج کی پینانگونگ جھیل کے جنوبی کنارے میں جمود کو تبدیل کرنے کی نئی کوششوں پر سخت اعتراض کیا اور مذاکرات کے ذریعے تعطل کو حل کرنے پر زور دیا۔ دونوں وزرائے دفاع کے مابین بات چیت کا مرکز طویل عرصے سے جاری سرحدی تعطل کو حل کرنے کے طریقوں پر تھا۔ دریں اثنا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ خطے میں امن و سلامتی کے لئے اعتماد کی فضا، عدم جارحیت، بین الاقوامی قوانین کا احترام اور اختلافات کا پرامن حل ضروری ہے۔