نیویارک،27/جون (آئی این ایس انڈیا) انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد اور ادارے دنیا بھر میں انسانوں کے ساتھ اذیت رسانی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانے کے رجحانات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔ کیا ان کی آوازیں ان جرائم کا مرتکب ہونے والوں تک پہنچ پائیں گی؟
تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کی’حمایت کا عالمی دن‘ ایک ایسے موقع پر منایا جا رہا ہے جب حالیہ دنوں میں انسانیت سوز چند ایسے واقعات پر ساری دنیا کی توجہ مرکوز ہوئی ہے جنہوں نے اس ترقی یافتہ دور میں انسانی اخلاقی اقدار کی تنزلی پر سے پردہ اْٹھایا ہے۔
آج تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کے لیے آوازیں اٹھانے والوں کو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ ' تشدد‘ کی تعاریف و تشریح کس پیمانے اور کس پیرائے میں کریں۔ کس معاشرے میں کون سا عمل ' تشدد‘ کے زمرے میں آتا ہے؟، کس عمل یا رویے کو تشدد مانا جاتا ہے؟ عوام الناس میں کس حد تک اس بارے میں شعور پایا جاتا ہے اور ان الجھی ہوئی گتھیوں کو کیسے اور کون سلجھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 دسمبر سن 1997 کو ایک قرارداد 52/149 کے ذریعہ 26 جون کو تشدد کے متاثرین کی حمایت میں عالمی دن کا اعلان کیا تھا۔ اس دن کا مقصد تشدد اور دیگر ظلم و بربریت، غیر انسانی برتاؤ یا سزا کے خلاف کنونشن کا سہارا لیتے ہوئے ایسے انسانیت سوز رویے کے دنیا سے خاتمے کو ممکن بنانا تھا۔
اس عالمی ادارے کا اس بارے میں یہ موقف ہے کہ تشدد یا اذیت رسانی بین الاقوامی قوانین کے تحت جرم ہے۔ اس پر پابندی لگائی جانی چاہیے اور کسی بھی حالت میں اس کا جواز نہیں پیش کیا جا سکتا۔
اس بار اس عالمی دن پر سب سے زیادہ جس واقعے کے گہرے سائے چھائے نظر آ رہے ہیں وہ حال ہی میں امریکا میں ایک افریقی نژاد امریکی باشندے جارج فلوئیڈ کی سفید فام پولیس کے ہاتھوں تشدد کی کارروائی کے نتیجے میں ہونے والی موت کا واقعہ ہے۔ اس ایک واقعے کے سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے کے بعد جس طرح دنیا کے مختلف خطوں اور ممالک میں نسلی پرستی اور دیگر امتیازی سلوک کے خلاف جس طرح سے عوامی مظاہرے ہوئے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ کوئی بھی معاشرہ تشدد اور بربریت سے پاک نہیں ہے۔